نئی دہلی : امریکہ کی مرکزی خفیہ ایجنسی، سی آئی اے، کی جانب سے جاری کیے گئے دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ القاعدہ کا بانی اسامہ بن لادن جن ممالک میں دہشت گرد حملے کرنے پر غور کر رہا تھا، ان میں بھارت بھی شامل تھا۔یہ معلومات امریکی انتظامیہ کے لیے تیار کی گئی 1998 کی ’صدارتی یومیہ بریف‘ یعنی صدر کے لیے روزانہ کی خفیہ رپورٹ سے سامنے آئی ہیں۔سی آئی اے نے 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کی 25ویں برسی کے موقع کے آس پاس اسامہ بن لادن سے متعلق 70 سے زیادہ خفیہ رپورٹس جاری کی ہیں۔ ان دستاویزات میں 100 سے زیادہ صفحات پر مشتمل خفیہ معلومات شامل ہیں، جن سے 9/11 حملوں سے پہلے القاعدہ سے بڑھتے ہوئے خطرے کے بارے میں مزید معلومات سامنے آتی ہیں۔
بھارت سمیت کئی ممالک کو نشانہ بنانے کا منصوبہ
28 اگست 1998 کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ اسامہ بن لادن بھارت، پاکستان، مصر، کویت، سعودی عرب، یمن، یوگنڈا اور ممکنہ طور پر نائجیریا سمیت کئی ممالک میں حملے کرنا چاہتا تھا۔تاہم دستاویز میں بھارت کے کسی مخصوص شہر، عمارت یا مقام کو ہدف کے طور پر نشان زد نہیں کیا گیا تھا۔ اس میں حملے کی تاریخ یا کارروائی کی حکمت عملی سے متعلق بھی کوئی معلومات نہیں دی گئی۔ بعض معلومات اب بھی خفیہ رکھی گئی ہیں۔
القاعدہ کا نیٹ ورک مسلسل فعال تھا
خفیہ فائلوں میں خبردار کیا گیا تھا کہ افغانستان میں موجود اسامہ بن لادن اور دیگر شدت پسند رہنماؤں کے خلاف امریکہ کی ممکنہ کارروائی کے باوجود القاعدہ کا نیٹ ورک فعال تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ اس کا مواصلاتی نظام کام کر رہا تھا اور بعض تربیتی کیمپوں میں دوبارہ سرگرمیاں شروع ہو گئی تھیں۔سی آئی اے کے جائزے کے مطابق حملوں کو انجام دینے کے لیے اسامہ بن لادن کم از کم 60 ممالک میں سرگرم اپنے ساتھیوں اور شدت پسند گروہوں پر انحصار کر سکتا تھا۔ امریکہ اور برطانیہ کو بھی ممکنہ اہداف کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔
امریکی صدور کو مسلسل ملتی رہی تھی وارننگ
1998 سے 2001 کے درمیان امریکی صدور کو ممکنہ دہشت گرد حملوں کے بارے میں بار بار خبردار کیا جاتا رہا۔ یہ سلسلہ بل کلنٹن کے دور میں شروع ہوا اور جارج ڈبلیو بش کے دور میں بھی جاری رہا۔
11 ستمبر 2001 کو کیا ہوا تھا؟
11 ستمبر 2001 کو القاعدہ کے 19 دہشت گردوں نے چار مسافر طیاروں کو ہائی جیک کر لیا تھا۔ دو طیارے نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا گئے، جبکہ ایک طیارہ پینٹاگون سے جا ٹکرایا۔ چوتھا طیارہ پنسلوانیا میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ان حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور اس کے بعد عالمی سطح پر سلامتی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے طریقہ کار میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


