تقریباً دو برس تک مستقل سربراہ کے بغیرچلنے کے بعد فلسطینی تنظیم حماس نے بالآخراپنے نئے سیاسی سربراہ کا انتخاب کرلیا ہے۔ تنظیم نے خلیل الحیہ کونیا سیاسی سربراہ مقررکیا ہے۔ ایسے وقت میں جب اسرائیل مسلسل حماس کی اعلیٰ قیادت کونشانہ بنا رہا ہے اورغزہ میں جنگ رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے، اس تبدیلی کو محض قیادت کی تبدیلی نہیں بلکہ پورے مغربی ایشیا کی سیاست اورجنگ کی سمت پراثراندازہونے والا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ خلیل الحیہ طویل عرصے سے حماس کے سیاسی چہرے اور جنگ بندی مذاکرات کے اہم مذاکرات کار رہے ہیں۔ آپ کوبتا دیں کہ غزہ جنگ کے دوران جنگ بندی اوریرغمالیوں کی رہائی سے متعلق متعدد مذاکرات میں وہ حماس کی نمائندگی کرتے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اکتوبر2024 میں حماس کے سربراہ یحییٰ سنواراسرائیلی حملے میں مارے گئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد تنظیم کسی ایک رہنما کے بجائے پانچ رکنی قیادتی کمیٹی کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔ مسلسل جنگ اور اعلیٰ رہنماؤں کی ہلاکت کے باعث نیا انتخاب نہیں ہوسکا تھا۔ اب حماس نے خلیل الحیہ کو باضابطہ طورپرنیا سربراہ منتخب کرلیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق انہوں نے سابق سربراہ خالد مشعل کوشکست دے کریہ عہدہ حاصل کیا، تاہم حماس نے اس دعوے کی سرکاری تصدیق نہیں کی ہے۔
انتخاب پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟
حماس کے اندریہ انتخاب کئی ماہ تک جاری رہنے والے داخلی عمل کے بعد ہوا، لیکن مغربی میڈیا کی طرف سے اس کی شفافیت پرسوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ مغربی میڈیا کا کہنا ہے کہ تنظیم نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے افراد نے ووٹ ڈالے، کس امیدوارکوکتنے ووٹ ملے اورانتخابی عمل کس طریقے سے مکمل ہوا۔ کچھ رپورٹس میں کہا گیا کہ خلیل الحیہ نے خالد مشعل کوشکست دی ہے، مگرحماس نے نہ صرف اس کی تصدیق نہیں کی بلکہ یہ بھی نہیں بتایا کہ کامیابی کا فرق کتنا تھا۔ اسی وجہ سے انتخابی عمل کی شفافیت اورطریقہ کارپربحث جاری ہے۔
جنگ کے دوران انتخاب
دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ یہ انتخاب ایسے وقت میں ہوا جب غزہ میں جنگ جاری ہے اورحماس کے کئی بڑے رہنما مارے جا چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ممکن ہے کہ تنظیم کے تمام سینئراراکین اس عمل میں شریک نہ ہوسکے ہوں۔ تاہم حماس کا کہنا ہے کہ انتخاب اس کے داخلی قوانین کے مطابق منعقد ہوا ہے۔ اب تک تنظیم کوپانچ رکنی قیادتی کونسل چلا رہی تھی۔ نئے سربراہ کے انتخاب کے بعد اس کونسل کوتحلیل کیا جائے گا اوراس کے تمام اراکین استعفیٰ دیں گے تاکہ نئی قیادت کی تشکیل کی جا سکے۔
خلیل الحیہ کون ہیں؟
خلیل الحیہ حماس کے پرانے اوربااثررہنماؤں میں شمارہوتے ہیں۔ وہ اس وقت قطرمیں مقیم ہیں اورطویل عرصے سے تنظیم کے سیاسی امورسنبھال رہے ہیں۔ اسرائیل ماضی میں بھی انہیں نشانہ بنانے کی کوشش کرچکا ہے، تاہم وہ حملوں میں محفوظ رہے۔ گزشتہ سال دوحہ میں ان پرایک متنازعہ اسرائیلی حملے کی کوشش کی گئی تھی، جس میں وہ بال بال بچ گئے، البتہ اس حملے میں ان کے ایک بیٹے کی موت ہوگئی تھی۔ رواں سال کے آغازمیں غزہ میں ہونے والے ایک اسرائیلی حملے میں ان کے ایک اوربیٹے کی بھی جان چلی گئی۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خلیل الحیہ کی تقرری حماس کی آئندہ سیاسی حکمت عملی، جنگ بندی مذاکرات اورخطے میں طاقت کے توازن پرنمایاں اثرڈال سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

