Bharat Express DD Free Dish

Hunger Crisis In Gaza: غزہ میں بھوک کا قہر، نہ روٹی، نہ راحت…، مگرپوری دنیا کیوں ہے خاموش؟

غزہ میں بھوک سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ لوگ نمک اورپانی پرزندہ ہیں، بچے غذائی قلت سے مررہے ہیں۔ صورتحال انتہائی سنگین ہے، اس کے باوجود عالمی ادارے غزہ کو قحط زدہ قراردینے سے گریزکررہے ہیں۔ آئیے اس کی وجہ جانتے ہیں۔

غزہ میں بھوک کی وجہ سے بڑے پیمانے پر موت ہو رہی ہے۔

غزہ کی زندگی اب نمک اورپانی پرمنحصرہے۔ لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔ جنوبی غزہ کے اسپتال اب بمباری کے متاثرین سے نہیں بلکہ غذائی قلت کے شکاربچوں سے بھرے پڑے ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ بتاتی ہے کہ غزہ کا ہرتیسرا باشندہ کئی دنوں تک بھوکا رہتا ہے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اس سب کے باوجود بین الاقوامی ادارے ابھی تک اسے ’قحط زدہ‘ علاقہ قراردینے سے گریزکر رہے ہیں۔

غزہ میں بھوک کا یہ منظراب اتنا بھیانک ہوچکا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کوبھی بیان دینا پڑا۔ اپنے اسکاٹ لینڈ کے دورے کے دوران انہوں نے غزہ سے بھوکے بچوں کی تصاویرکوخوفناک قراردیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کواب جنگ کا فیصلہ کرنا چاہئے۔ دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہونے غزہ میں غذائی قلت کے الزامات کویکسرمسترد کردیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ غزہ میں نہ توبھوک ہے اورنہ ہی ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے۔

موت کے اعدادوشمار، مدد کا قحط

2 مارچ، 2025 سے جب اسرائیل نے غزہ پر پوری طرح سے ناکہ بندی کی، تبھی سے حالات تیزی سے بگڑتے گئے۔ اقوام متحدہ کی فلسطین امدادی ایجنسی (یواین آرڈبلیواے) نے 20 جولائی کو کہا کہ 10 لاکھ بچے بھوک کے دہانے پرہیں۔ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کے ضوابط کہتے ہیں کہ جنگ میں عام شہریوں کو بھوکا رکھنا جنگی جرم ہے۔ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ اسی زمرے میں آتا ہے۔ مہینوں سے کسی بھی طرح کی مدد کو اندر جانے نہیں دیا گیا۔

بھوک سے مدد تک کا قحط

غزہ میں کھانے کی مدد پانے پہنچے لوگوں کو بھی اب جان گنوانی پڑ رہی ہے۔ غزہ ہیومینیٹرین فاؤنڈیشن کے نام سے چلنے والے مبینہ امدادی مراکز پر اب تک 900 سے زیادہ لوگ مارے جاچکے ہیں۔ ان مین سے کئی ممالک بھاڑے کے فوجیوں کی گولی کا شکارہوئے۔ آج کی دنیا میں جہاں اسمارٹ فون سے ریئل ٹائم اپڈیٹ ملتے ہں، وہاں غزہ کی قحط سالی کوئی خفیہ یا نامعلوم مصیبت نہیں ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read