Bharat Express DD Free Dish

Donald Trump: ’’پانچ جنگیں ختم کرائیں، نوبل کا حقدار ہوں…‘‘، ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارت-پاکستان جنگ بندی کا لیا کریڈٹ

وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں۔تاہم، ان دعوؤں پر بین الاقوامی سطح پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں

مریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر دنیا میں قیامِ امن کا سہرا اپنے سر باندھا ہے۔ ایک تازہ بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے نہ صرف بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا، بلکہ پچھلے پانچ مہینوں میں پانچ بین الاقوامی جنگوں کو بھی روکا۔

ٹرمپ نے کہا:”میں نے بھارت-پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کو ختم کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان خطرناک صورتحال پیدا ہو گئی تھی، یہاں تک کہ پانچ لڑاکا طیارے گرائے جا چکے تھے۔ میں نے دونوں ممالک سے بات کی اور تجارتی دباؤ کے ذریعے معاملہ سلجھایا۔”

ٹرمپ نے 10 مئی کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اعلان کیا تھا کہ بھارت اور پاکستان نے واشنگٹن کی ثالثی میں رات گئے تک جاری رہنے والی ایک طویل بات چیت کے بعد “مکمل اور فوری جنگ بندی“ پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ اس اعلان کے بعد سے ٹرمپ نے مختلف مواقع پر اس دعوے کو کئی بار دہرایا ہے۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے دیگر تنازعات جیسے تھائی لینڈ-کمبوڈیا، کانگو-روانڈا، سربیا-کوسووو، اور مصر-ایتھوپیا کے بیچ بھی امن قائم کروانے کا دعویٰ کیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا:”اگر میں نہ ہوتا، تو دنیا میں اس وقت چھ بڑی جنگیں جاری ہوتیں۔ میں نے اوسطاً ہر مہینے ایک جنگ روکی ہے۔”

بھارت کا ردعمل
بھارتی حکومت نے ایک بار پھر ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت-پاکستان کے درمیان کوئی بھی بات چیت یا سمجھوتہ مکمل طور پر دو طرفہ تھا اور کسی تیسرے فریق کی کوئی مداخلت نہیں ہوئی۔

نوبیل انعام کی بات
وائٹ ہاؤس کی سابق پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے ٹرمپ کو نوبیل امن انعام کے لیے موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کوششوں سے لاکھوں زندگیاں بچائی گئیں۔تاہم، ان دعوؤں پر بین الاقوامی سطح پر ملے جلے ردعمل سامنے آ رہے ہیں

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read