Bharat Express DD Free Dish

Demand for separation of Karachi from Sindh: کراچی کو سندھ سے الگ کرنے کی بحث، ہنگاموں کے بعد سندھ اسمبلی میں قرارداد منظور

قرارداد کے مطابق سندھ اسمبلی صوبے کی سالمیت، وقار اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر متحد ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں ایم کیو ایم-پی کے لیڈر اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی کے عوام کو نظرانداز کیے جانے پر صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

کراچی: پاکستان کے صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کی صورتحال کے خلاف عوام سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور شہر کی بدحالی ختم کرنے کے لیے حکمرانوں سے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ 14 فروری کو ’جینے دو کراچی کو‘ کے نعرے کے ساتھ مظاہرین نے احتجاج کیا۔ حالانکہ، پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ کراچی کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں۔

اس تمام ہنگامہ آرائی کے درمیان سندھ اسمبلی کے اراکین نے ہفتے کے روز ایک قرارداد منظور کی، جس میں کراچی کو سندھ سے الگ کرنے سے متعلق خدشات کو مسترد کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسمبلی نے شہر کو صوبے کا ’لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کے برعکس کسی بھی اقدام کی مخالفت کی۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا کہ ایوان “سندھ کی تقسیم یا کراچی کو شامل کر کے الگ صوبہ بنانے کی کسی بھی سازش کو مسترد کرتا ہے۔” مراد علی شاہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے تعلق رکھتے ہیں، جس کی قیادت آصف علی زرداری کر رہے ہیں۔ قرارداد میں واضح کیا گیا کہ “کراچی سندھ کا اٹوٹ اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے اور ہمیشہ رہے گا۔”

وزیراعلیٰ کا یہ اقدام متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) کی جانب سے کراچی میں وفاقی مداخلت کے بار بار مطالبات کے بعد سامنے آیا، جس میں شہر کو ’فیڈرل ٹیریٹری‘ قرار دینے کی بات کی گئی تھی۔ قرارداد میں تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں جو ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کے لیے خطرہ بن سکتے ہوں۔ اس میں مزید کہا گیا کہ سندھ کی یکجہتی، علاقائی سالمیت اور تاریخی شناخت آباؤ اجداد کی امانت ہے، جس کا تحفظ آئینی، جمہوری اور سیاسی طریقوں سے کیا جائے گا۔

قرارداد کے مطابق سندھ اسمبلی صوبے کی سالمیت، وقار اور تاریخی ورثے کے تحفظ کے لیے پارٹی وابستگی سے بالاتر ہو کر متحد ہے۔ اس ہفتے کے آغاز میں ایم کیو ایم-پی کے لیڈر اور وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کراچی کے عوام کو نظرانداز کیے جانے پر صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اپوزیشن کی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ قرارداد غیر آئینی ہے اور مخالفین کو چیلنج کیا کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کا کوئی ایک نکتہ ثابت کریں۔

انہوں نے ایم کیو ایم-پی کے بدلتے مؤقف کا حوالہ دیتے ہوئے یاد دلایا کہ 2019 میں بھی سندھ کی تقسیم کے خلاف اسی نوعیت کی متفقہ قرارداد منظور کی گئی تھی، جس کی اس وقت ایم کیو ایم-پی نے حمایت کی تھی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قومی سطح پر پی پی پی کی اتحادی جماعت صوبائی سطح پر اسی پارٹی کو براہِ راست چیلنج کرتی نظر آ رہی ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read