ماسکو: روسی دارالحکومت ماسکو کے بالجی روسی ریستوران میں ہفتہ کی شام ہونے والے بم دھماکے میں تین افراد ہلاک جبکہ 21 افراد زخمی ہو گئے۔ روس کی قومی انسدادِ دہشت گردی کمیٹی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دھماکہ ایک دیسی ساختہ بم کے پھٹنے سے ہوا۔ روسی خبر رساں ایجنسی ریا نووستی کے مطابق واقعے کے فوراً بعد پولیس، تفتیشی حکام اور فورنسک ماہرین جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا۔
ابتدائی طور پر گیس دھماکے کا شبہ
روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی تاس کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کمیٹی نے بتایا کہ کودرنسکایا اسکوائر میں واقع ریستوران میں ایک خاتون دیسی ساختہ بم لے جا رہی تھی، لیکن داخلی دروازے پر موجود سکیورٹی اہلکار نے اسے روک لیا۔ دھماکے میں ہلاک ہونے والوں میں وہ خاتون، اسے روکنے والا سکیورٹی گارڈ اور ایک گاہک شامل ہیں۔ روسی سکیورٹی اداروں سے وابستہ ٹیلیگرام چینل بازا نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا کہ ابتدا میں اسے ریستوران کے کچن میں گیس دھماکہ سمجھا گیا تھا، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ دھماکہ دیسی ساختہ بارودی مواد کے باعث ہوا۔
نجی تقریب کے دوران پیش آیا واقعہ
رپورٹس کے مطابق ریستوران ایک نجی سالگرہ کی تقریب کے لیے بک کیا گیا تھا، جہاں روسی فضائیہ کے کمانڈر الیگزینڈر چائیکو بھی موجود تھے۔ سوشل میڈیا اور روسی ٹیلیگرام چینلز پر جاری تصاویر میں عمارت کے باہر فائر بریگیڈ کی گاڑیاں، ایمبولینسیں اور سکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری دیکھی جا سکتی ہے۔ ریا نووستی کے مطابق خاتون بم کو ریستوران کے اندر اسمگل کرنے کی کوشش کر رہی تھی، مگر سکیورٹی گارڈ نے اسے اندر داخل ہونے سے روک دیا، جس کے فوراً بعد دھماکہ ہو گیا۔
ٹارگیٹ کے متعلق کوئی تصدیق نہیں
روسی حکام نے ابھی تک یہ واضح نہیں کیا کہ حملے کا اصل ہدف کون تھا، لیکن ماسکو میں اس واقعے کو یوکرین جنگ سے جوڑ کر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ یہ ریستوران ماسکو کی اسٹالن دور کی مشہور بلند عمارتوں میں سے ایک میں واقع ہے۔ دھماکے کے بعد آس پاس کی سڑکیں عارضی طور پر بند کر دی گئیں۔ دھماکے کے وقت درجنوں سائیکل سوار شام کی ایک اجتماعی سواری کے لیے قریبی مقام پر جمع تھے، تاہم سکیورٹی خدشات کے باعث یہ پروگرام منسوخ کر دیا گیا۔ روسی میڈیا کی جاری کردہ ویڈیوز میں جائے وقوعہ پر بھاری ہتھیاروں سے لیس پولیس اہلکار تعینات دکھائی دیے۔
روس میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ
2022 میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد روس میں دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں کے متعدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔ روسی خفیہ ادارے کئی ایسے حملوں کا الزام یوکرین پر عائد کرتے رہے ہیں جن میں روسی فوجی افسران یا جنگ کی حمایت کرنے والی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا۔ اسی سلسلے میں روس نے اپریل 2025 میں سینئر جنرل یاروسلاو موسکالیک کی کار بم دھماکے میں ہلاکت کا الزام بھی یوکرین پر عائد کیا تھا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


