Bharat Express DD Free Dish

US Senate to Counter China’s ‘Gray Zone’ Strategy: ہند-بحرالکاہل میں چین کی ’گرے زون‘ حکمتِ عملی کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکی سینیٹ میں بل پیش

بحرالکاہل (انڈو پیسیفک) خطے میں عوامی جمہوریہ چین (پیپلز ریپبلک آف چائنا) کی مبینہ ’گرے زون‘ حکمتِ عملی کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

واشنگٹن: امریکی سینیٹ میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کے ایک دو جماعتی گروپ نے ایک نیا بل پیش کیا ہے، جس کا مقصد ہند-بحرالکاہل (انڈو پیسیفک) خطے میں عوامی جمہوریہ چین (پیپلز ریپبلک آف چائنا) کی مبینہ ’گرے زون‘ حکمتِ عملی کا مؤثر مقابلہ کرنے کے لیے امریکہ کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا ہے۔ امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ بیجنگ کی دباؤ ڈالنے والی سرگرمیاں خطے کے استحکام، امریکہ کی قومی سلامتی اور اس کے اتحادیوں کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔

ڈک ورتھ اور بلیک برن نے پیش کیا بل

یہ بل بدھ کو مقامی وقت کے مطابق الینوائے سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ اور ٹینیسی کی ریپبلکن سینیٹر مارشا بلیک برن نے پیش کیا۔ مجوزہ قانون کا مقصد امریکی محکمہ خارجہ اور انڈو پیسیفک کے شراکت دار ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینا ہے تاکہ چین کی ان سرگرمیوں کی بہتر نگرانی، روک تھام اور مؤثر جواب دیا جا سکے جو براہِ راست فوجی جنگ کے درجے تک نہیں پہنچتیں۔

امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار

سینیٹر ٹیمی ڈک ورتھ نے کہا کہ ہند-بحرالکاہل میں چین کی بڑھتی ہوئی جارحیت نہ صرف امریکہ کے علاقائی شراکت داروں بلکہ خود امریکہ کی معاشی اور قومی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہے۔ ان کے مطابق امریکہ ایک بحرالکاہلی ملک ہے اور آزاد، کھلے اور قواعد پر مبنی انڈو پیسیفک پر انحصار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دو جماعتی بل امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کو یقینی بنائے گا تاکہ خطے کے استحکام کو کمزور کرنے والی سرگرمیوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔

’گری زون‘ حکمتِ عملی کیا ہے؟

قانون سازوں کے مطابق ‘گری زون’ حکمتِ عملی سے مراد ایسی سرگرمیاں ہیں جن کا مقصد کھلی فوجی جنگ چھیڑے بغیر دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنا اور خطے کے استحکام کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ امریکی سینیٹرز نے کہا کہ چین اس مقصد کے لیے سائبر حملوں، معاشی دباؤ، معلوماتی جنگ (انفارمیشن وارفیئر)، سمندری اور سرحدی سرگرمیوں سمیت مختلف ذرائع استعمال کرتا ہے۔ سینیٹر مارشا بلیک برن نے کہا کہ کمیونسٹ چین مسلسل نئے طریقے اختیار کر رہا ہے تاکہ سائبر حملوں، معاشی دباؤ اور دیگر گری زون ہتھکنڈوں کے ذریعے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچایا جا سکے، جبکہ کھلی فوجی جنگ سے بھی بچا جا سکے۔

بل میں کیا تجاویز شامل ہیں؟

مجوزہ قانون کے تحت امریکی وزیرِ خارجہ کو ہند-بحرالکاہل میں چین کی سرگرمیوں کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی پیش کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ ایسے سرکاری محکموں، پروگراموں اور اداروں کی نشاندہی کی جائے گی جو نگرانی اور ردعمل کی صلاحیت کو مزید مضبوط بنا سکیں۔ بل میں ایک خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے، جو چین کی گری زون سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے گی، ان سے نمٹنے کے لیے ضروری وسائل اور حکمتِ عملیاں تیار کرے گی اور اپنی پیش رفت کی رپورٹ باقاعدگی سے کانگریس کو پیش کرے گی۔ اس کے علاوہ محکمہ خارجہ کو انڈو پیسیفک کے اتحادی ممالک، شراکت داروں اور نجی شعبے کے ساتھ تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کی ہدایت بھی دی جائے گی۔

بھارت کی بڑھتی ہوئی اہمیت

قانون سازوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد امریکی قومی مفادات کا تحفظ، عالمی معیشت کو محفوظ بنانا اور خطے کی سلامتی کو مزید مضبوط کرنا ہے۔ بیان میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ کواڈ (QUAD) جیسے فریم ورک کے ذریعے بھارت، امریکہ، جاپان اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ہند-بحرالکاہل حکمتِ عملی کا ایک اہم شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں نئی دہلی اور واشنگٹن نے دفاعی تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور سمندری رابطوں کو نمایاں طور پر فروغ دیا ہے۔ دونوں ممالک مسلسل اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ ہند-بحرالکاہل خطہ آزاد، کھلا اور بین الاقوامی قواعد پر مبنی ہونا چاہیے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read