نیویارک: آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ نے اتوار کو ایک مشترکہ اقدام کے تحت فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرلیا اور مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کی۔ تاہم تینوں ملکوں نے کہا کہ حماس کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔
’’فلسطینی عوام کا دیرینہ حق‘‘ — آسٹریلیا
آسٹریلوی وزیراعظم کے دفتر نے بیان میں کہا: ’’آسٹریلیا باضابطہ طور پر فلسطین کی آزاد اور خودمختار ریاست کو تسلیم کرتا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ آسٹریلیا فلسطینی عوام کی اُس دیرینہ اور جائز آرزو کو تسلیم کرتا ہے جس کے تحت وہ اپنی ریاست کے حق دار ہیں۔‘‘
My statement formally recognising the State of Palestine. pic.twitter.com/HtBmnIQGBS
— Anthony Albanese (@AlboMP) September 21, 2025
’’1947 سے دو ریاستی حل‘‘ — کینیڈا
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے کہا: ’’1947 سے ہر کینیڈین حکومت کی پالیسی دو ریاستی حل کی حمایت رہی ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن قائم ہوسکے۔ یہ ایک خودمختار، جمہوری اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کا تصور ہے جو اسرائیل کے ساتھ امن اور سلامتی سے اپنا مستقبل تعمیر کرے۔‘‘
Today, Canada recognises the State of Palestine. pic.twitter.com/zhumVJRBfe
— Mark Carney (@MarkJCarney) September 21, 2025
’’یہ حماس کے لیے انعام نہیں‘‘ — برطانیہ
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ امن کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے ہے اور ’’یہ حماس کے لیے کوئی انعام نہیں‘‘۔ وزیراعظم کے دفتر کے مطابق: ’’فلسطین کو تسلیم کرنا ایک تاریخی فیصلہ ہے، جو فلسطینی عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت پر مبنی ہے۔‘‘ اسٹارمر نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں، مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر اور حماس کے اقدامات دو ریاستی حل کی امید کو ختم کر رہے ہیں۔
Today, to revive the hope of peace for the Palestinians and Israelis, and a two state solution, the United Kingdom formally recognises the State of Palestine. pic.twitter.com/yrg6Lywc1s
— Keir Starmer (@Keir_Starmer) September 21, 2025
اسرائیلی یرغمالیوں کے اہل خانہ کی تنقید
اسی دوران ہاسٹیجز اینڈ مسنگ فیملیز فورم نے آسٹریلیا، کینیڈا اور برطانیہ کے فیصلے کی مذمت کی۔ بیان میں کہا گیا: ’’فلسطینی ریاست کو بلا شرط تسلیم کرنے سے یہ نظر انداز کیا گیا کہ حماس کے قبضے میں اب بھی 48 یرغمالی ہیں۔‘‘ فورم نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی ریاست کی پہچان پر کوئی بھی بات چیت یرغمالیوں کی فوری رہائی سے مشروط ہونی چاہیے۔ اسرائیلی ڈیموکریٹس کے چیئرمین یائر گولان نے اس فیصلے کو ’’تباہ کن‘‘ اور ’’انتہائی نقصان دہ‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل کئی ممالک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


