Bharat Express DD Free Dish

two-state solution

اسرائیل نے اس فیصلے کو ’’تباہ کن‘‘ اور ’’انتہائی نقصان دہ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اسرائیل کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگا۔اطلاعات کے مطابق پیر کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس سے قبل کئی ممالک فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔

سعودی عرب نے واضح کیا کہ فلسطین کو تسلیم کرنا محض علامتی نہیں بلکہ علاقائی امن کے لیے "اسٹریٹجک ضرورت" ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مملکت خطے اور عالمی سطح پر عادلانہ امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان گذشتہ ہفتے زور دے کر یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک فلسطینی ریاست کے قیام سے پہلے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات ہر گز قائم نہیں کرے گا۔ سعودی مجلس شوری کی کارروائیوں کا افتتاح کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ فلسطین کا مسئلہ ان کے ملک کی توجہ میں سرفہرست ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی اسلامی جہاد نے حال ہی میں ایک جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے جو تقریباً پانچ دن کی لڑائی کے بعد ہفتے کی رات 10 بجے نافذ ہونا تھا۔