فیس بک کی ایک سابق عالمی پالیسی ڈائریکٹر نے امریکی سینیٹ کے سامنے گواہی دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ’’میٹا‘‘ نے چین کے ساتھ اپنے معاملات کے لیے قومی سلامتی اور تقریر کی آزادی کو نظرانداز کیا ہے۔ ریڈیو فری ایشیا (آر ایف اے) کی خبر کے مطابق فیس بک کی سابق عالمی پالیسی ڈائریکٹر سارہ وین ولیمز نے بدھ کے روز سینیٹ کی سماعت میں کہا کہ فیس بک پر استعمال ہونے والے مواد کا جائزہ لینے والا ٹول ذاتی طور پر میٹا کے بانی مارک زکربرگ نے ہانگ کانگ اور تائیوان کے لیے تیار اور نافذ کیا تھا۔
ولیمز نے وضاحت کی کہ یہ ٹول فیس بک کی ہر اس پوسٹ کو خوبخود ’’چیف ایڈیٹر‘‘ کو جائزہ کے لیے بھیج دے گا جس پر 10,000 سے زیادہ کمنٹس ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ’’یہ چینی کمیونسٹ پارٹی اور مارک زکربرگ کا اپنے ناقدین کو خاموش کرنے کا مشترکہ مقصد ہے۔ میں اپنے تجربات سے اس کی تصدیق کر سکتی ہوں۔‘‘ ولمیز کے بیان کے مطابق یہ ٹول خود مختار تائیوان اور چینی قبضے والے ہانگ کانگ کے خطوں میں استعمال کیا گیا، جہاں چینی کمیونسٹ پارٹی اپنے متحدہ محاذ کے اقدامات کو تیز کر رہی ہے۔ آر ایف اے کے مطابق چین میں یونائیٹڈ فرنٹ ورک ڈپارٹمنٹ چینی باشندوں کا انتظام کرنے، اختلاف رائے کو ختم کرنے، انٹیلی جنس جمع کرنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور ٹیکنالوجی کی منتقلی میں سہولت فراہم کرنے جیسی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔
اس سے پہلے بھی فیس بک کی علاقائی پالیسیوں پر اٹھے ہیں سوالات
واضح رہے کہ میٹا کے پلیٹ فارم چین میں ممنوع ہونے کے باوجود یہ کمپنی عالمی سطح پر اشتہار دینے والی چینی فرموں سے کافی آمدنی پیدا کرتی رہتی ہے۔ میٹا کی مالیاتی رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ اس کے اشتہارات کے ذریعے آمدنی کے سب سے بڑے ذرائع میں چین کا شمار ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے پہلے بھی فیس بک پر ایسے الزامات لگائے جا چکے ہیں۔ ہندوستان میں بھی حزب اختلاف اور کئی این جی اوز نے فیس بک پر آزادیٔ اظہار کو دبانے اور علاقائی حکومتوں کے ساتھ تعاون کا الزام لگایا ہے۔ چین کے حوالے سے یہ تازہ رپورٹ اس سلسلے کی تازہ کڑی ہے اور فیس بک کے حوالے سے خدشات کو مزید تقویت دیتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
