بھارتی موسیقی کی دنیا میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے بعد بھی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ایسی ہی ایک آواز مشہور غزل گلوکار پنکج ادھاس کی تھی۔ ان کی غزلیں لوگوں کے جذبات کی ترجمان ہوا کرتی تھیں۔ ان کی گائیکی میں ایسی مٹھاس تھی جو سیدھا دل کو چھو لیتی تھی۔ اس عظیم گلوکار کے سفر کی شروعات ایک چھوٹے سے اسٹیج اور صرف 51 روپے کے انعام سے ہوئی تھی۔
تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی پوری توجہ موسیقی پر مرکوز
پنکج ادھاس نے راجکوٹ کی سنگیت ناٹک اکیڈمی میں طبلہ سیکھنا شروع کیا۔ بعد میں انہوں نے کلاسیکی موسیقی کی بھی تربیت حاصل کی۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی پوری توجہ موسیقی پر مرکوز رہی۔ انہوں نے ممبئی سے سائنس میں ڈگری بھی حاصل کی، لیکن ان کا اصل خواب موسیقی کی دنیا میں اپنی شناخت بنانا تھا۔ان کی زندگی کا سب سے خاص واقعہ بھارت-چین جنگ کے دوران پیش آیا۔ اس وقت ان کے بڑے بھائی منہر ادھاس کا ایک اسٹیج شو جاری تھا۔ ننھے پنکج نے اسٹیج پر جا کر ’’اے میرے وطن کے لوگوں‘‘ گیت گایا۔ ان کی آواز سن کر وہاں موجود ایک شخص اتنا جذباتی ہو گیا کہ اس نے اسٹیج پر ہی پنکج کو 51 روپے انعام میں دیے۔ آج یہ رقم چھوٹی لگ سکتی ہے، لیکن اُس دور میں یہ ان کے لیے بہت بڑی بات تھی۔
51 روپے زندگی کا پہلا اعزاز
پنکج ادھاس نے کئی انٹرویوز میں کہا تھا کہ وہی 51 روپے ان کی زندگی کا پہلا اعزاز تھے۔ موسیقی کی دنیا میں مقام بنانا ان کے لیے آسان نہیں تھا۔ انہوں نے طویل عرصے تک جدوجہد کی۔ انہیں فلموں میں پہلا موقع 1972 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کامنہ‘ سے ملا۔ اگرچہ فلم کامیاب نہیں ہوئی، لیکن ان کی آواز لوگوں کو پسند آئی۔ اس کے بعد انہوں نے غزل گائیکی کی طرف قدم بڑھایا۔ غزل کو صحیح انداز اور جذبات کے ساتھ گانے کے لیے انہوں نے اردو بھی سیکھی۔ 1980 میں ان کا پہلا غزل البم ’آہٹ‘ ریلیز ہوا، جس نے انہیں نئی شناخت دی۔ اس کے بعد ’ترنم‘، ’محفل‘ اور ’نایاب‘ جیسے البمز آئے، جنہوں نے انہیں غزل کی دنیا کا بڑا نام بنا دیا۔ پھر 1986 میں فلم ’نام‘ کا مشہور گانا ’’چٹھی آئی ہے‘‘ آیا اور پنکج ادھاس راتوں رات اسٹار بن گئے۔ یہ گانا آج بھی لوگوں کی آنکھیں نم کر دیتا ہے۔26 فروری 2024 کو پنکج ادھاس اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی آواز آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

