Bharat Express DD Free Dish

Imran Khan Gets Interim Relief: بالی ووڈ اداکار عمران خان کو بامبے ہائی کورٹ سے عبوری راحت، بھارت چھوڑنے کے نوٹس پر روک

مرکزی حکومت کے نوٹس پر عمل درآمد اگلی سماعت تک معطل، اداکار کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی بنچ نے ہدایت دی ہے کہ معاملے کی اگلی سماعت تک عمران خان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔

بامبے ہائی کورٹ نے منگل کو بالی ووڈ اداکار عمران خان کو عبوری راحت دیتے ہوئے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری بھارت چھوڑنے کے نوٹس پر عمل درآمد روک دیا۔ اس نوٹس میں اداکار کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ہائی کورٹ کی بنچ نے ہدایت دی ہے کہ معاملے کی اگلی سماعت تک عمران خان کے خلاف کوئی سخت کارروائی نہ کی جائے۔

مرکزی حکومت نے سماعت ملتوی کرنے کی درخواست کی

اداکار نے اس نوٹس کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل (ASG) نے عدالت سے معاملے کی سماعت اگلے ہفتے تک ملتوی کرنے کی درخواست کی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپیل کی کہ اس وقت تک عمران خان کے خلاف کوئی تعزیری کارروائی نہ کی جائے۔ دونوں فریقوں کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے نوٹس پر عمل درآمد روکنے کا حکم برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 2 نومبر کو دوپہر 3 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ تب تک اداکار کو عبوری راحت حاصل رہے گی۔

چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے سے جڑا معاملہ

یہ پورا تنازع چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر ہونے والے ایک احتجاج میں عمران خان کی شرکت سے متعلق ہے۔ حکام کا الزام ہے کہ بھارتی شہری نہ ہونے کے باوجود سیاسی مظاہرے میں حصہ لے کر اداکار نے فارنرز ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی کی۔ تاہم، عمران خان نے ہائی کورٹ میں دائر اپنی عرضی میں اس کارروائی کو من مانا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی ابتدائی تحقیقات، وجہ بتاؤ نوٹس یا اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیے بغیر انہیں محض 14 دن کے اندر بھارت چھوڑنے کی ہدایت دے دی گئی۔ انہوں نے اسے انصاف کے اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

عرضی میں کیا دلائل دیے گئے؟

عرضی میں کہا گیا ہے کہ احتجاج ایسی جگہ پر ہوا تھا جسے ممنوعہ علاقہ قرار نہیں دیا گیا تھا۔ عمران خان کے مطابق، انہوں نے نہ تو کسی بیریکیڈ کو عبور کیا اور نہ ہی مظاہرے کے دوران کسی قانون کی خلاف ورزی کی۔ اپنی عرضی میں عمران خان نے دعویٰ کیا کہ وہ احتجاج کی جگہ سے نکلنے کی تیاری کر رہے تھے، تبھی میڈیا کے کچھ لوگوں نے انہیں گھیر لیا۔ اس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ فارن ریجنل رجسٹریشن آفس (FRRO) نے اپنے حکم میں الزام لگایا تھا کہ عمران خان کے پاس بھارتی شہریت کے بجائے اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (OCI) کا درجہ ہونے کے باوجود انہوں نے سیاسی احتجاج میں حصہ لیا، جو فارنرز ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی ہے۔ فی الحال، بامبے ہائی کورٹ کے عبوری حکم سے اداکار کو راحت ملی ہے۔ معاملے کی اگلی سماعت 2 نومبر کو ہوگی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read