نیٹ فلکس کی آنے والی فلم گھوس خور پنڈت کےٹائٹل کو لے کر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد فلم سازوں نے دہلی ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ منوج باجپئی کی اس فلم کا نام تبدیل کیا جائے گا۔ عدالت میں دیے گئے بیان میں نیٹ فلکس نے واضح کیا کہ فلم کے عنوان سے قابلِ اعتراض الفاظ ہٹا دیے جائیں گے اور نیاٹائٹل رکھا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے فلم سے متعلق تمام تشہیری مواد پہلے ہی ہٹا دیا گیا ہے۔اس معاملے میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی ،جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ہدایت کار نیرج پانڈے کی فلم کا ٹائٹل ’گھوس خور پنڈت‘ برہمن برادری کے لیے توہین آمیز اور بدنام کرنے والا ہے۔ عرضی گزار کا کہنا تھا کہ ’گھوس خور‘ جیسے لفظ کو ’پنڈت‘ کے ساتھ جوڑ کر پوری برادری کی شبیہ کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، جو فرقہ وارانہ طور پر بھی قابلِ اعتراض ہے۔ اسی بنیاد پر عدالت سے فلم کی ریلیز اور اسٹریمنگ پر پابندی لگانے کی درخواست کی گئی تھی۔
دہلی ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران نیٹ فلکس کے وکیل نے بیان دیا کہ کمپنی نے فلم کا نام بدلنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور متنازع لفظ کو مکمل طور پر ہٹا دیا جائے گا۔ نیٹ فلکس نے یہ بھی کہا کہ تنازع سامنے آنے کے فوراً بعد فلم سے متعلق تمام پروموشنل مواد سوشل میڈیا سے ہٹا دیا گیا تھا۔عدالتی کارروائی کے بعد عرضی گزار ایڈووکیٹ وِنت جندل نے اس فیصلے کو برہمن برادری کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹائٹل میں ’گھوس خور‘ لفظ کا استعمال برادری کے لیے ہتک آمیز تھا اور نیٹ فلکس کی جانب سے نام بدلنے پر رضامندی ظاہر کرنا ایک اہم قدم ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر مستقبل میں فلم کے مواد میں بھی کوئی قابلِ اعتراض بات سامنے آتی ہے تو دوبارہ عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے عرضی نمٹاتے ہوئے کہا کہ اگر کنٹینٹ میں کسی قسم کی خامی پائی جاتی ہے تو عرضی گزار قانونی طریقہ کار کے تحت دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ چونکہ او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر سی بی ایف سی سرٹیفکیشن لازمی نہیں ہوتا، اس لیے مرکزی حکومت یا متعلقہ اتھارٹی کنٹینٹ کی جانچ کر سکتی ہے۔ عرضی گزار نے اسے بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز پر کسی خاص برادری کو نشانہ بنانے والے مواد پر روک لگے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


