آشا بھوسلے کوہندوستانی سنیما کی موسیقی میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ اپنی آوازکی اداکاری سے سامعین کے دلوں میں ایک نئی لہرجگانے والی “آشا تائی” اب ہمارے درمیان نہیں رہیں۔ انہوں نے ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں 92 سال کی عمرمیں آخری سانس لی۔ ہندوستانی موسیقی کی صنعت میں استعداد کی بات کی جائے توآشا بھوسلے کا نام سب سے پہلے آتا ہے۔ اس لیجنڈ گلوکارہ نے اپنے فلمی کیرئیرمیں اتنے گانے گائے ہیں کہ سن کرعام آدمی بھی حیران رہ جائے گا۔ باضابطہ اعداد وشماراورموسیقی کے ماہرین کے مطابق، آشا بھوسلے نے 12,000 سے زیادہ گانوں کواپنی آوازدی ہے۔
گنیز ورلڈ ریکارڈ میں درج ہے نام
سال 2011 میں گنیز ورلڈ ریکارڈس نے باضابطہ طورپرآشا بھوسلے کوموسیقی کی تاریخ میں “سب سے زیادہ ریکارڈ شدہ آرٹسٹ” کے طورپرتسلیم کیا۔ اس وقت، اس نے 11,000 سے زیادہ سولو، ڈوئٹ اورکورس کی حمایت والے گانے ریکارڈ کئے تھے۔ تاہم، شائقین اورمحققین کا خیال ہے کہ اگران کی علاقائی زبان اورغیرفلمی بھجن کوشامل کیا جائے تویہ تعداد بہت زیادہ ہے۔
View this post on Instagram
20 سے زیادہ زبانوں میں بکھیرا جادو
آشا بھوسلے کا سب سے بڑا امتیازیہ ہے کہ انہوں نے نہ صرف ہندی بلکہ 20 سے زیادہ ہندوستانی اورغیرملکی زبانوں میں بھی گایا ہے، جن میں مراٹھی، بنگالی، گجراتی، پنجابی، بھوجپوری، تامل، تیلگواوریہاں تک کہ انگریزی اور روسی زبانیں بھی شامل ہیں۔ 1943 میں اپنی پہلی فلم “ماجھا بال” (مراٹھی) سے اپنے کیرئیرکا آغازکرتے ہوئے، آشا بھوسلے نے سات دہائیوں تک فلم انڈسٹری میں سب سے زیادہ راج کیا۔
آشا بھوسلے کے انتقال سے ماحول سوگوار
آشا بھوسلے کے انتقال سے پورے ملک میں غم کا ماحول ہے۔ سیاسی لیڈران، سیلبس اورسرکردہ شخصیات سمیت سبھی لوگ ان کے انتقال پرافسوس کا اظہار کررہے ہیں۔ مرکزی وزیرپیوش گوئل نے ایکس پرلکھا، ”دیدی آشا بھوسلے، میٹھی آوازاوربے مثال گائیکی کی مظہر، کئی دہائیوں تک ہندوستانی موسیقی کونئی بلندیوں تک پہنچایا۔ ان کی آوازصرف دھنوں کا سنگم نہیں ہے، بلکہ جذبات کا ایک ایسا غیرمنقول بندھن اوررشتہ ہے، جسے الفاظ میں قید کرپانا آسان نہیں ہے۔ ایک ایسا تعلق جوہرکسی کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔” ان کے گائے ہوئے گیت آنے والی نسلوں تک یوں ہی گونجتی رہیں گی۔”
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


