Anjali Raghav Pawan Singh Controversy: بھوجپوری انڈسٹری سے متعلق ایک تنازعہ ایک بارپھر سرخیوں میں ہے، جہاں معافی، الزام اورسوشل میڈیا کے کردار نے پورے معاملے کومزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ بھوجپوری سنیما کے پاور اسٹار پون سنگھ اوراداکارہ انجلی راگھو کے درمیان چلا یہ تنازعہ اب نئے موڑ تک پہنچ گیا ہے۔ جہاں ایک طرف انجلی راگھو نے پون سنگھ کے خلاف اپنی شکایت واپس لے لی ہے۔ وہیں، دوسری طرف یہ معاملہ پوری طرح ختم بھی نہیں ہوا ہے۔
جس تنازعہ کی ہم بات کررہے ہیں، وہ اس وقت شروع ہوا تھا، جب ایک پروگرام کے دوران پون سنگھ اورانجلی راگھو کا ایک ویڈیو وائرل ہوگیا تھا۔ اس ویڈیو میں پون سنگھ انجلی کی کمر چھوتے ہوئے نظرآئے۔ اس دوران انجلی کافی بے چین ہوتی ہوئی نظرآئیں، جس کے بعد یہ ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوا اورکافی ہنگامہ مچ گیا۔ یہ معاملہ اتنا بڑھ گیا کہ انجلی راگھو نے عوامی طورپراپنی ناراضگی ظاہرکی اور انڈسٹری چھوڑنے تک کی بات کہہ دی تھی۔
انجلی نے شکایت لے لی واپس
تنازعہ بڑھنے کے بعد پون سنگھ نے سوشل میڈیا پرسامنے آکرمعافی مانگی۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کوئی غلط ارادہ نہیں تھا اوراگران کے برتاو سے انجلی کو ٹھیس پہنچی ہے تو وہ اس کے لئے افسوس ظاہرکرتے ہیں۔ انجلی نے اس معاملے سے متعلق شکایت بھی درج کی تھی، لیکن اب اس پورے معاملے میں نیا موڑتب آیا، جب انجلی راگھونے ان کی معافی قبول کرلی اوران کے خلاف درج شکایت واپس لے لی۔ رپورٹس کے مطابق، دونوں کے درمیان آپسی رضامندی بن گئی ہے اورانجلی نے آگے اس معاملے کونہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ٹیم پرلگایا یہ بڑا الزام
حالانکہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ انجلی راگھونے یہ بھی واضح کیا ہے کہ معاملہ پوری طرح بند نہیں ہوا ہے۔ کیونکہ پون سنگھ کی سوشل میڈیا ٹیم کے خلاف کارروائی ابھی بھی جاری ہے۔ اداکارہ نے بھلے ہی پون سنگھ کے خلاف شکایت واپس لے لی ہے، لیکن اداکار کے سوشل میڈیا ٹیم کے تین شخص پرانہوں نے الزام لگایا ہے۔ الزام میں کہا گیا ہے کہ ٹیم کے لوگوں نے ایونٹ کے دوران کی تصویراور ویڈیوکوغلط طریقے سے پھیلایا اور فحش ویب سائٹ پربھی اپلوڈ کردیا ہے۔ اس معاملے میں سماعت آج یعنی 6 اپریل کو ہونی والی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
