Bharat Express DD Free Dish

Dr. Khalid Raza Khan




Bharat Express News Network


تقریب کے مہمان خصوصی بہجت کمال نجمی نے اپنے خطاب میں کہا کہ "اردوادب اوردین وملت کی خدمت ایک 'صدقہ جاریہ' ہے۔" انہوں نے کہا کہ انجمن ترقی اردوجیسی تنظیمیں، جو 1903 میں قائم ہوئیں، اردو زبان کی بقا اور فروغ کی علمبردارہیں۔ انہوں نے انجمن کی طرف سے شائع کردہ کتابوں اوران کی دینی و سماجی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کتب معاشرے میں روحانی بیداری پیدا کرتی ہیں۔

آر جے ڈی کے ترجمان نے امریکی جارحیت کے خلاف ایران کے موقف کی بھرپور تائید کی اور مسلم ممالک کی غیرت و حمیت کو جگانے پر زور دیا۔ انہوں نے پرزور انداز میں کہا کہ وہ اس جنگ میں پوشیدہ مثبت امکانات دیکھ رہے ہیں اور ایران کی فتح عالمی امن و انصاف کی فتح ہوگی۔

سماجی کارکن ڈاکٹر شالینی علی نے سی بی ایف سی اور این سی ڈبلیو میں 'فحش' گانے 'سرکے چنر تیری سرکے' کے خلاف شکایت درج کرائی، فوری پابندی اور قانونی کارروائی کا مطالبہ

آر جے ڈی کے ترجمان اور جے این یو کے سابق پروفیسر کا مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے تشویش کا اظہار، امریکی فوجی اڈوں کو قرار دیا خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پروفیسر نے انسانی جان کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں سمجھاتے ہوئے بتایا کہ ایک بے گناہ کا خون پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا جنگ کی ہولناکیوں سے باربار اٹھی ہے، لیکن بے گناہ شہریوں کا خون آج بھی بہایا جا رہا ہے، جو انسانیت کے لیے ایک داغ ہے۔

غالب اکیڈمی، نظام الدین ویسٹ میں مرزا اسداللہ خان غالب کی 157 ویں یوم وفات کے موقع پر چار روزہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا، جس میں ملک بھر سے نامور اہلِ قلم، محققین، شعرا اور غزل گلوکاروں نے شرکت کی۔

کتاب ’’بھارتی مسلمانوں کی گورو گاتھائیں‘‘ میں شامل 115 دیش بھکت مسلمانوں کی فہرست میں تین شعبوں میں منفرد خدمات کے لیے کرنل طاہر مصطفیٰ کی ستائش – مصنف یاجویندر یادو کا کہنا ہے، فوج، سفارت کاری اور تعلیم کے ایسے سنگم کو سلام

"بھارتی مسلمانوں کی گورو گاتھائیں" میں شامل پروفیسر اختر نے وقف ترمیمی بل پر چلایا تاریخی عوامی بیداری مہم۔ تعلیم، حب الوطنی اور وقف اصلاحات سے بنائی متاثر کن پہچان

حضرت سید شاہ محمد نظامیؒ، سجادہ نشینِ درگاہ حضرت نظام الدین اولیاءؒ (دہلی) کے وصال سے پورا ملک سوگوار ہے۔ ان کا انتقال صرف مسلم برادری ہی نہیں بلکہ بھارت کی مشترکہ تہذیبی وراثت، صوفی روایت اور صدیوں پر محیط گنگا–جمنی تہذیب کے لیے ایک گہرا اور ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔

ایک تاریخی قومی کانفرنس نے قانونی تحفظ سے ہٹ کر قومی مقصد پر توجہ مرکوز کی، تعلیم کو اتحاد اور 2047 تک ترقی یافتہ بھارت کی بنیاد کے طور پر پیش کیا۔