Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


ڈاکٹر شکیل احمد خان نے مرکز اور بہار حکومت سے سوال کیا کہ مہادلتوں کے نام پر صرف تقریریں کی جائیں گی یا زمین پر بھی کوئی کام ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ بستی میں بچوں کے لیے تعلیم کا مناسب انتظام نہیں ہے اور صفائی ملازمین بھی روزانہ کی ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ سرکاری ملازمت کے لیے ایسے نوجوانوں کا انتخاب ضروری ہے جو پبلک آفس سے نہیں بلکہ پبلک سروس سے متاثر ہوں۔ ’نیشن فرسٹ، سٹیزن فرسٹ‘ کو انتخاب کا معیار بنایا جائے۔

وزیر اعظم نے یو پی ایس سی کی صدی تقریبات میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ ایک صدی کے دوران نسلیں، حکومتیں، ٹیکنالوجی اور نصاب بدلے، لیکن ادارے پر اعتماد آج بھی اٹل ہے۔

پانچ روزہ نمائش میں ملک بھر کے فن کاروں نے روایتی لوک فن، ثقافت اور اساطیری ورثے کی رنگا رنگ عکاسی کی۔ نوجوان نسل کو ہندوستانی تہذیبی جڑوں سے جوڑنے کی کوشش۔

ایکسس بینک کے ویزا اور ماسٹر کارڈ کریڈٹ کارڈز سے شروعات. ماہرین کے مطابق ایپل پے سے کارڈ ادائیگی کو فروغ مل سکتا ہے، تاہم یو پی آئی کی پوزیشن پر بڑے اثر کا امکان دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ 

بیان کے مطابق پلانٹ کی تعمیر پر مجموعی طور پر 16.80 کروڑ روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اس میں حکومت ہند کی جانب سے 6 کروڑ روپے کی گرانٹ اور بھوپال کوآپریٹو ملک یونین کی جانب سے 10.80 کروڑ روپے کی شراکت شامل ہے۔

منگلور ریفائنری اینڈ پیٹروکیمیکلز لمیٹڈ (ایم آر پی ایل) کے پلانٹ میں بدھ کو دھماکے کے بعد زبردست آگ بھڑک اٹھی، جس سے علاقے میں افرا تفری مچ گئی۔ پلانٹ کے احاطے سے دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔

اس کامیابی نے ایشین گیمز میں خواتین ہاکی کا دوسرا طلائی تمغہ جیتنے کے ہندوستان کے 44 سالہ انتظار کو ختم کرنے کی امید برقرار رکھی ہے۔ ہندوستان نے پول مرحلے میں ازبیکستان کو 19-0، انڈونیشیا کو 17-1 اور تھائی لینڈ کو 20-1 سے شکست دی تھی۔ اس کے علاوہ میزبان جاپان کو 3-1 اور سنگاپور کو 7-0 سے ہراکر ٹیم نے بغیر کوئی میچ ہارے سیمی فائنل میں جگہ بنائی۔

بھارت منڈپم میں منعقدہ پروگرام کے دوران وزیراعظم مودی یو پی ایس سی کی صد سالہ یادگاری سکہ، ڈاک ٹکٹ اور کتاب بھی جاری کریں گے۔  یہ پروگرام یو پی ایس سی کے قیام کے 100 سال مکمل ہونے کے موقع پر گزشتہ ایک سال سے جاری تقریبات کے اختتام کی علامت ہوگا۔

اس اسکیم کو مالی سال 2032-33 تک قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے مجموعی طور پر 1,86,405 کروڑ روپے کی لاگت مقرر کی گئی ہے۔ اس میں 1,36,378 کروڑ روپے گرین انرجی کوریڈور فیز-III کے تحت ریاستی سطح کے اندر بجلی کی ترسیل کے نظام کی ترقی کے لیے اور 50,000 کروڑ روپے 50 گیگاواٹ آور بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔