Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


’دی کٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق راسوا اور اس سے ملحقہ اضلاع میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال کی حکومت نے باضابطہ طور پر قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کے مختلف علاقوں کو تین ماہ کے لیے بحران زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

اتر پردیش کی صورتحال پر بھی ریاستی حکومت کی جانب سے قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ گنڈک ندی سے قربت کے باعث کشی نگر ضلع کے متاثر ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر وہاں این ڈی آر ایف کی ایک اضافی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔

نیپال ٹورزم بورڈ کے مطابق متاثرہ علاقوں سے مجموعی طور پر 384 مسافروں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔ ان میں 291 غیر ملکی شہری اور 93 نیپالی شہری شامل ہیں۔ نیپال ٹورزم بورڈ کی ’’لاپتہ افراد‘‘ کی فہرست میں ہمالیئن گلیشیئر علاقے سے 37 غیر مقیم ہندوستانیوں کے لاپتہ ہونے کا بھی ذکر ہے۔

پولیس کے مطابق حادثہ صبح تقریباً 5 بج کر 20 منٹ پر درگاپورم اسٹیج کے قریب پیش آیا، جہاں بس ٹرک سے جا ٹکرائی۔ پولیس نے بتایا کہ حیدرآباد سے وجے واڑہ جانے والی بس میں مجموعی طور پر 43 مسافر سوار تھے۔ پولیس کے مطابق ’’حادثہ درگاپورم کے قریب پیش آیا۔ ہم نے جاں بحق افراد کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے مردہ خانے منتقل کر دیا ہے اور فی الحال معاملے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔‘‘

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں ہندوستان ’’نیپال میں اپنے بہن بھائیوں‘‘ کے ساتھ مضبوطی سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کی ٹیمیں بچاؤ اور راحت رسانی کی کوششوں میں قریبی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

ممبئی ناکا پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں عدالت نے ندا خان کو 50 ہزار روپے کے بانڈ پر ضمانت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں باقاعدگی سے پولیس اسٹیشن میں حاضری لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مقدمے کی تفتیش کے دوران ندا خان کو وقتاً فوقتاً پولیس کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔

امت شاہ نے کہا کہ یہ فیصلہ محض علامتی نہیں ہے بلکہ ایک ایسی تاریخی غلطی کو دہرانا ہے جس نے ملک کی تقسیم میں کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا ’’کل کانگریس ورکنگ کمیٹی نے ایک حیران کن اور ملک مخالف فیصلہ کیا۔ 1937 کی اپنی قرارداد کے تحت انہوں نے عظیم قومی گیت وندے ماترم کے صرف دو بند گانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

مقامی عدالت نے مبینہ نفرت انگیز تقریر کے معاملے میں ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، نوجوانوں اور بھارت کے فوجیوں کے خلاف قابلِ اعتراض بیانات دیے تھے۔

وزیراعظم مودی کا یہ بیان اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کی جانب سے بھارت کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ ہرزوگ نے بھارت کی آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوستی کو سراہا۔