Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


حالات اب بھی سنگین ہیں اور ہرگزرتا لمحہ یاتریوں کی سلامتی کے لیے قیمتی ثابت ہو رہا ہے۔ ملک بھر میں لوگ لاپتہ افراد کی بخیر واپسی کے لیے دعا گو ہیں جبکہ فوج اور ریسکیو ٹیمیں ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں۔

حکومت کا موقف ہے کہ ایسی تحریریں نہ صرف قانون و امن اور قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں بلکہ نوجوانوں کے ذہنوں پر منفی اثرات ڈال کر معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ اسی بنا پر ان کتابوں کی اشاعت اور پھیلاؤ پر روک لگانا ضروری ہے۔

جیسے جیسے کھدائی اور جانچ آگے بڑھ رہی ہے مزید راز سامنے آنے کی توقع ہے۔ سچ کی پرتیں ابھی باقی ہیں اور ایس آئی ٹی ہر زاویے سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

کلیم عاجز کے شعری مجموعے نہ صرف ادبی حلقوں بلکہ عام قارئین میں بھی بے حد مقبول ہوئے۔ وہ لال قلعہ دہلی کے مشاعروں میں دہائیوں تک بہار کی نمائندگی کرتے رہے۔ انہیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری کے اعزاز سے نوازا گیا۔ 

پنجاب کے وزیرتعلیم اور سری آنندپور صاحب سے ایم ایل اے ہرجوت سنگھ بینس نے اکال تخت صاحب کے سامنے پیش ہو کر ’تنخیا‘ (مذہبی غلطی کے مرتکب) قرار دیے جانے پر معافی مانگی اور سکھ مذہبی عدالت کی طرف سے دی گئی مذہبی سزا کو عاجزی کے ساتھ قبول کیا۔

صدر مارکوس کے اس دورے نے نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان دوستی کو مزید مستحکم کیا بلکہ انڈو پیسیفک خطے میں باہمی تعاون، امن، ترقی اور جمہوری اقدار کے فروغ کا ایک نیا باب بھی کھولا۔

اگر اردو غزل ایک نازک احساس ہے اور نعت ایک روحانی وجد، تو امیر مینائی ان دونوں کے سنگم پر کھڑے وہ شاعر ہیں جنہوں نے الفاظ کو صرف لکھا نہیں، برتا ہے۔ وہ ایک ایسے ادبی صوفی تھے جنہوں نے دنیا کو بتایا کہ شاعری صرف قافیہ پیمائی نہیں، بلکہ احساس کی عبادت بھی ہے۔

اوڈیشہ قیادت کی مسلسل مرکز سے بات چیت ظاہر کرتی ہے کہ ریاست، وکست بھارت کے وژن میں ایک فعال اور ثقافتی طور پر اہم کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس میں جگن ناتھ کلچر کی جھلک بھی نمایاں ہے۔

کرتویہ بھون نہ صرف ایک نئی شروعات کی علامت ہے بلکہ ایک ایسے دور کی بنیاد بھی ہے جہاں جدید بھارت کے وژن کے مطابق پالیسی سازی، بہتر انتظام اور خود کفالت کی سمت میں اہم اقدامات کیے جائیں گے۔

عدالت نے تمام ریاستوں کے ریگولیٹری اثاثے آئندہ چار برسوں میں ختم کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔ ساتھ ہی ریاستی بجلی کمیشنز اور ٹریبونلز کو مؤثر طریقے سے کام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عدالت نے بجلی سے جڑے اداروں کی کارکردگی پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سُستی کا خمیازہ عام شہری بھگت رہے ہیں۔