Habiburrahman
Bharat Express News Network
Tata deliver 250th Super Hercules tail: ’میک اِن انڈیا‘ مہم کو بڑی کامیابی، لاک ہیڈ مارٹن اور ٹاٹا نے بھارت میں تیار کردہ 250 واں C-130J سپر ہرکولیس ٹیل یونٹ فراہم کردیا
بھارت نے یہ طیارے پہلی بار 2011 میں حاصل کیے تھے۔ دنیا بھر میں C-130J بیڑے میں 23 ممالک شامل ہیں، جہاں 560 سے زیادہ طیارے اب تک 30 لاکھ سے زائد پروازیں مکمل کر چکے ہیں۔ اس پیش رفت کو دفاعی مینوفیکچرنگ اور عالمی سپلائی چین میں بھارت کے بڑھتے کردار کی مضبوط علامت قرار دیا جا رہا ہے، اور ماہرین اسے دفاعی صنعت کی خود انحصاری کی سمت ایک بڑا قدم سمجھتے ہیں۔
India’s electronics manufacturing: گزشتہ 11 سال میں بھارت کی الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ چھ گنا بڑھ کر 11.32 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی: جتن پرساد
مرکزی وزیر مملکت کا راجیہ سبھا میں بیان، پی ایل آئی اسکیموں سے مینوفیکچرنگ، برآمدات اور روزگار میں نمایاں اضافہ، ان اقدامات سے ملک میں روزگار کے مواقع بھی نمایاں طور پر بڑھے ہیں۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کمرشل انٹیلی جنس اینڈ اسٹیٹسٹکس کے مطابق، مالی سال 2024-25 میں الیکٹرانک مصنوعات کی درآمدات 98.6 ارب ڈالر جبکہ برآمدات تقریباً 38.5 ارب ڈالر رہیں۔
Annual Loksatta Lecture: لوک ستہ لیکچر میں سابق چیف جسٹس کا خطاب: ریزرویشن استحقاق نہیں، تاریخی ناانصافی کا تصحیحی میکانزم، ڈاکٹر امبیڈکر کے یوم وفات پر سماجی انصاف کی بازگشت
اپنے خطاب میں جسٹس گوئی نے کہا: ’’جب آغاز ناہموار ہو، تو یکساں قانون انصاف پیدا نہیں کرتا بلکہ ناانصافی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔‘‘ ’’قانون سب کیلئے ایک جیسا ہونا چاہیے، لیکن زندگی سب کیلئے ایک جیسی نہیں۔‘‘ انہوں نے اس عمل کو تاریخی محرومیوں کی تلافی، اداروں کی نمائندگی میں تنوع اور پسماندہ طبقات کی ادارہ جاتی رسائی کو فروغ دینے کا ذریعہ قرار دیا۔
International Mediation and Dispute Resolution Conference 2025: بین الاقوامی تنازعات کے حل میں میڈییشن ہی مستقبل، سابق چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس بی آر گوئی نے پیش کیا کلیدی خطاب
نوی ممبئی میں عالمی کانفرنس، قانونی ماہرین اور طلبہ کی بڑی تعداد کی شرکت۔ جسٹس گوئی نے کہا کہ ہندوستان کا عدالتی ڈھانچہ لاکھوں زیر التوا مقدمات اور تیزی سے بدلتے معاشرتی و ٹکنالوجیکل ماحول کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق: ’’انصاف صرف عدالت کے فیصلے سے نہیں بلکہ ایسے نظام سے ممکن ہے جس میں ہر شہری کو موثر، سستا اور قابل رسائی راستہ ملے۔‘‘
Adani University 2nd Convocation: پریتی اڈانی کا جلسہ تقسیم اسناد میں طلبا سے خطاب، کہا-’’مقصد کے ساتھ بھارت کی ابھرتی ہوئی ترقی کا حصہ بنیں‘‘
اڈانی یونیورسٹی کے دوسرے کنووکیشن میں 87 طلبہ کو ڈگریاں تفویض کی گئیں۔ ڈاکٹر اڈانی نے یونیورسٹی کے مستقبل کے لیے ایک ’’جدت پر مبنی کیمپس‘‘ کے قیام کے منصوبے کا اعادہ بھی کیا۔کوالکوم انڈیا کے صدر ساوی ایس سوئن نے خصوصی طور پر طلبا سے خطاب کیا۔
India Adds 14 Million Manufacturing Jobs: بھارت میں 2018 کے بعد 1 کروڑ 40 لاکھ نئی مینوفیکچرنگ نوکریاں، ایک تہائی صرف ٹیلرنگ شعبے سے
ماہرین کے مطابق ٹیلرنگ کا شعبہ بھارت میں روزگار کے ایک بڑے غیر رسمی ذریعہ کے طور پر ابھر رہا ہے، تاہم کم آمدنی، تربیت کی کمی اور سماجی تحفظ کے فقدان جیسے مسائل اس پیشے کو پائیدار بنانے کے لیے فوری اصلاحات کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں۔
Workers registered on e-Shram portal: ای-شرم پورٹل پر غیر منظم شعبے کے 31.38 کروڑ کارکنوں کا رجسٹریشن مکمل، روزگار اور بہبود کی اسکیموں تک آسان رسائی
حکومت کا کہنا ہے کہ ای-شرم اور NCS جیسے پلیٹ فارم غیر منظم شعبے کی ورک فورس کو منظم بنانے، سہولتیں فراہم کرنے اور ملکی روزگار نظام کو مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
Mobile phone import drops: ہندوستان میں موبائل فون کی درآمد تقریباً ختم، 2014-15 میں 75 فیصد رہنے والی درآمد 2024-25 میں کم ہوکر 0.02 فیصد ہوئی
حکومت نے بھارت کو الیکٹرانکس سسٹم ڈیزائن اور مینوفیکچرنگ کے عالمی مرکز میں تبدیل کرنے کے لیے متعدد پروگرام شروع کیے ہیں۔ ان اسکیموں میں بڑے پیمانے پر الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کے لیے پی ایل آئی اسکیم شامل ہے، جو موبائل فون اور مخصوص اجزاء کی بڑھتی ہوئی فروخت پر 3 سے 6 فیصد تک ترغیب فراہم کرتی ہے۔
Electoral Rolls Reform Exercise: انتخابی فہرستوں میں اصلاحات، اسپیشل انٹینسیو ریویژن انتخابی شفافیت کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش
SIR سے تمام مسائل ختم نہیں ہوں گے، مگر یہ دنیا کے اس یقین کو مضبوط ضرور کرے گا کہ ہندوستان انتخابات صحیح، منصفانہ اور منظم طریقے سے کراتا ہے۔ امید یہی ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمارا ملک اس مقام پر نہ پہنچے جہاں کہا جائے: ’’یہاں انتخابات نہیں ہوتے یہاں انتخابات منظم کیے جاتے ہیں۔‘‘
Home loans set to fall to historic low: شرح سود میں کمی کے بعد ہاؤس لون کی شرح 7.1 فیصد کی تاریخی سطح تک گرنے کا امکان
آر بی آئی نے ریپو ریٹ میں 0.25 فیصد کمی کی، صارفین کو EMI میں ریلیف۔ ماہرین کے مطابق نئے قرض داروں کو 7.1 فیصد کی شرح سے ہاؤس لون فراہم کرنے کے لیے بینکوں کو یا تو ڈپازٹ شرحیں کم کرنی ہوں گی یا بینچ مارک ریٹ پر اسپریڈ میں تبدیلی لانا ہوگی۔




