Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر اور نوبیل انعام یافتہ محمد یونس نے بھی سابق وزیر اعظم کے انتقال پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ انہوں نے خالدہ ضیا کو قوم کی ’’عظیم سرپرست‘‘ اور بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ کی ایک بلند قامت شخصیت قرار دیا۔ 

دہلی میں صبح کے وقت شدید دھند اور زہریلی فضا کی موٹی چادر چھائی رہی۔ دوارکا ایکسپریس وے، دھولا کنواں اور اندرا گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت کئی علاقوں میں حد نگاہ تقریباً صفر تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ دہلی میں ہوا کا معیار انتہائی خراب درجے میں رہا، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس 384 ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد شہریوں کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

اس تاریخی موقع کی یاد میں اور شہیدوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے پورٹ بلیئر میں ’’سنکلپ اسمارک‘‘ کا افتتاح کیا گیا۔ وزارت دفاع کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، لیفٹیننٹ جنرل اجے سنگھ، کمانڈر اِن چیف انڈمان و نکوبار کمانڈ (CINCAN) نے 29 دسمبر 2021 کو نیتا جی کی آمد کے 78 برس بعد اس یادگار کو قوم کے نام وقف کیا تھا۔

طارق رحمان کی بنگلہ دیش آمد کو ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک نوبیل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں عبوری حکومت کے تحت چل رہا ہے۔ ان کی آمد پر بی این پی کی جانب سے بڑے پیمانے پر استقبال اور کارکنوں کی بھاری تعداد میں شرکت کو آئندہ انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔

وزیراعظم مودی نے خالدہ ضیا کے سیاسی ورثے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیراعظم کے طور پر انہوں نے ملک کی ترقی اور بھارت-بنگلہ دیش تعلقات میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے 2015 میں ڈھاکہ میں خالدہ ضیا سے ہونے والی اپنی ملاقات کو بھی یاد کیا۔

سنبھل میں جامع مسجد کے قریب واقع قبرستان کی زمین کی آج پیمائش کی جائے گی۔ اس سلسلے میں سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ علاقے کی نگرانی ڈرون اور سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے کی جا رہی ہے، ساتھ ہی فلیگ مارچ بھی کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کی سیاست کا ایک اہم باب آج ختم ہو گیا۔ دہائیوں تک ڈھاکہ کی سیاست میں اثر و رسوخ رکھنے والی سابق وزیراعظم خالدہ ضیا آج انتقال کر گئیں۔ انہوں نے آج صبح فجر کی نماز کے بعد آخری سانس لی۔ بھارت میں پیدا ہونے والی ’پُتُل‘ خالدہ ضیا، وزیراعظم بننے کے بعد طویل عرصے تک بھارت کے ساتھ ٹکراؤ کی سیاست کرتی رہیں۔

الکا لامبا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اُنّاؤ عصمت دری کیس کے تناظر میں بی جے پی اور مرکزی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سابق بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو ضمانت ملنا انصاف کے نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

پارٹی نے اپنے تصدیق شدہ فیس بک پیج پر پوسٹس کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: ’’بیگم خالدہ ضیا کا انتقال صبح تقریباً 6 بجے، فجر کی نماز کے بعد ہوا۔ ہم ان کی مغفرت اور روح کے ابدی سکون کے لیے دعا گو ہیں اور سب سے ان کے لیے دعا کی اپیل کرتے ہیں۔‘‘

ایشوریہ سینگر نے کہا کہ ان کا خاندان برسوں سے اس مقدمے کا سامنا کر رہا ہے۔ ’’میں گزشتہ آٹھ برسوں سے انصاف کے لیے لڑ رہی ہوں، لیکن شاید میرے اور میرے خاندان کے دکھوں کی کوئی اہمیت نہیں۔ ہماری عزت، سکون اور یہاں تک کہ ہمیں سنے جانے کا بنیادی حق بھی چھین لیا گیا ہے۔ اس کے باوجود مجھے انصاف کی امید ہے۔ میں میڈیا سے گزارش کرتی ہوں کہ کوئی غلط معلومات نہ پھیلائی جائیں۔‘‘