نئی دہلی: ’’وکست بھارت اور مشن 2047‘‘ کے موضوع پر منعقدہ مسلم ویمن انٹلیکچوئلس کانفرنس آج انڈیا انٹرنیشنل سینٹر (IIC)، نئی دہلی کے کانفرنس ہال–1 میں کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ اس کانفرنس میں خواتین ماہرین تعلیم، دانشوران، اساتذہ، میڈیا پروفیشنلز اور سماجی قائدین نے شرکت کی اور سال 2047 تک بھارت کو ایک ترقی یافتہ ملک بنانے میں مسلم خواتین کے کردار پر تفصیلی غور و فکر کیا۔ کانفرنس کی صدارت ڈاکٹر اندریش کمار، مارگ درشک مسلم راشٹریہ منچ (MRM) نے کی۔ اپنے صدارتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ وکست بھارت کی بنیاد صرف مادی ڈھانچے پر نہیں بلکہ تعلیم یافتہ، بااخلاق اور اقدار پر قائم شہریوں پر استوار ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا: ’’وکست بھارت صرف عمارتوں سے نہیں بنتا بلکہ ایسے شہریوں سے بنتا ہے جن میں کردار، ہمدردی اور سماجی ذمہ داری ہو۔ تعلیم کا مقصد محبت، بھائی چارہ اور انسانی اقدار کو فروغ دینا ہونا چاہیے، نہ کہ نفرت کو۔ کردار ہی ایک ترقی یافتہ قوم کی اصل بنیاد ہے۔‘‘
’’ایک قوم، ایک وطن—ہندوستان‘‘
کانفرنس میں ’’ایک قوم، ایک وطن—ہندوستان‘‘ کے جذبے کو مرکز میں رکھتے ہوئے مشن 2047 کے اہداف کے حصول کے لیے تمام طبقات کی مشترکہ شرکت پر زور دیا گیا۔ ڈاکٹر اندریش کمار نے کہا کہ تعلیم، سماجی ہم آہنگی اور مسلسل فکری مکالمہ مشن 2047 کے بنیادی ستون ہیں۔ اس موقع پر مس شالینی علی، قومی کنوینرمسلم راشٹریہ منچ نے مسلم خواتین کی بڑھتی ہوئی امنگوں، قیادت کی صلاحیت اور سماجی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تعلیم اور سماجی شمولیت کے ذریعے مسلم خواتین قوم کی تعمیر میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے ڈاکٹر شاہد اختر، قومی کنوینر مسلم راشٹریہ منچ نے کہا کہ مشن 2047 کی کامیابی معاشرے کے ہر طبقے کی تعمیری شراکت پر منحصر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم خواتین فکری شرکت، سماجی قیادت اور خود انحصاری کے ذریعے مضبوط بھارت کی تعمیر میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صبیحہ احمد، رکن اتر پردیش سنی سنٹرل وقف بورڈ نے اس کانفرنس کو تاریخی اور مشن پر مبنی قرار دیا۔ انہوں نے مقصد کی وضاحت، عزم اور ’’رائزنگ بیونڈ دی ویل‘‘ جیسے خواتین مرکوز اقدامات کی ضرورت پر زور دیا، جو مسلم خواتین کو قومی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بناتے ہیں۔
مسلم خواتین قوم کی معمار
میڈیا اور سماجی نقطۂ نظر پیش کرتے ہوئے مس نغمہ سحر، اینکراین ڈی ٹی وی نے کہا کہ خود اعتمادی، میڈیا میں منصفانہ نمائندگی اور مرکزی دھارے میں شمولیت خواتین کو بااختیار بنانے کے اہم ستون ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم خواتین کو محدود شناخت تک مقید کرنے کے بجائے مساوی شہری اور قوم کے معمار کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ کانفرنس کے دوران تعلیم، معاشی شمولیت، خواتین کی قیادت، میڈیا نمائندگی اور سماجی ہم آہنگی جیسے موضوعات پر تفصیلی مباحثہ ہوا۔ مقررین نے متفقہ طور پر کہا کہ مسلم خواتین محض ترقی کی مستفید نہیں بلکہ بھارت کے ہمہ گیر اور جامع ترقی کے سفر کی فعال شراکت دار اور محرک ہیں۔ کانفرنس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ 2047 تک ایک ترقی یافتہ، ہم آہنگ اور متحد بھارت کے مشترکہ قومی ہدف کے حصول کے لیے فکری پلیٹ فارمز کو مضبوط کیا جائے، خواتین قیادت کو فروغ دیا جائے اور اجتماعی کوششوں کو مسلسل آگے بڑھایا جائے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

