Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


ملیشیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کا پرتپاک استقبال اور اعلیٰ سطحی مذاکرات اس بات کی علامت ہیں کہ بھارت اور ملیشیا اپنے تاریخی تعلقات کو جدید تقاضوں کے مطابق نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی، اعتماد اور شراکت داری کے ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔

سوامی ستیہ مترانند جی مہاراج کے شری وِگراہ کی تنصیب کی یہ تقریب نہ صرف ایک مذہبی اجتماع تھی بلکہ یہ روحانیت، قومی یکجہتی اور تہذیبی بیداری کا ایک عظیم مظہر بھی ثابت ہوئی۔ تقریب میں گورنر عارف محمد خان، سوامی رام دیو، سوامی بالکانند، پشکر سنگھ دھامی، موہن یادو سمیت کئی اہم شخصیات کی شرکت۔

میگھالیہ کوئلہ کان دھماکہ ایک المناک سانحہ ہے جس نے پورے ملک کو غم زدہ کر دیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ غیر قانونی اور غیر محفوظ کان کنی کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے جان لیوا حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

ملبے میں اب بھی مزدوروں کے پھنسے ہونے کا اندیشہ، این ڈی آر ایف کی تین ٹیمیں ریسکیو میں مصروف۔ ریسکیو آپریشن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر ریسپانس فورس، این ڈی آر ایف کی تین ٹیمیں بھی موقع پر تعینات کر دی گئی ہیں، جو ملبہ ہٹا کر پھنسے مزدوروں کو نکالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

یہ اعلان نہ صرف صنعتی و کاروباری حلقوں میں موضوع بحث بنا بلکہ سماجی خدمت کے میدان میں بھی اسے ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا۔ اسی مناسبت سے آج بیٹے جیت اڈانی کی شادی کی سالگرہ کے موقع پر گوتم اڈانی نے اپنے عہد کو پورا کیا اور بیٹے کے لیے سوشل سائٹ ’ایکس‘ پر ایک جذباتی پوسٹ کرکے سالگرہ کی مبارکباد دی۔

کوآپریٹو بنیادوں پر قائم بھارت کی پہلی رائیڈ ہیلنگ ایپ، زیرو کمیشن، بغیر سرچارج کرایہ اور منافع کی براہ راست تقسیم، تین برس میں کشمیر سے کنیا کماری تک توسیع کا ہدف۔ ’بھارت ٹیکسی‘ ایپ کا اجرا حکومت ہند کی جانب سے خود انحصاری، سماجی انصاف اور کوآپریٹو شراکت داری کے وژن کی عملی مثال ہے۔

پرینکا گاندھی نے حکومت پر بحث سے بھاگنے کا الزام لگایا۔ میموائر تنازع اور راہل گاندھی کے بیان پر پابندی کے بعد پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سیاسی ماحول نہایت کشیدہ ہو چکا ہے اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان شدید لفظی جنگ جاری ہے۔

یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مغربی بنگال میں سیاسی ماحول انتہائی گرم ہے۔ ایک جانب ترنمول کانگریس اپنی حکومت بچانے کے لیے سرگرم ہے، تو دوسری جانب بی جے پی اور کانگریس دونوں سخت مقابلے کی تیاری میں مصروف ہیں۔

پارلیمنٹ میں صدر کے خطبے پر شکریہ کی تحریک پر بحث کے دوران وزیراعظم نے اپوزیشن پر سخت تنقید کی۔ کانگریس کی سوچ اور بی جے پی کے وژن میں بنیادی فرق کی وضاحت کرتے ہوئے نہرو اور اندرا گاندھی کے نظریے پر کانگریس کو آئینہ دکھایا۔

شدید شور شرابے کے باوجود وزیراعظم مودی نے راجیہ سبھا کے چیئرمین سی پی رادھاکرشنن سے مخاطب ہو کر اپنا خطاب جاری رکھا اور صدر کے خطبے پر حکومت کی کامیابیوں اور پالیسیوں کا دفاع کیا۔ تاہم، ایوان کا ماحول مسلسل کشیدہ رہا۔