Bharat Express DD Free Dish

Habiburrahman




Bharat Express News Network


وزیراعظم نے کہا کہ یہ شرح نمو ایسے وقت میں حاصل ہوئی ہے جب عالمی معیشت غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ سپلائی چین سے متعلق مسائل بھی موجود ہیں۔

نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی (NDRRMA) کے مطابق پیر تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 903 ہو گئی، جبکہ تقریباً 4,247 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اب تک مجموعی طور پر 10,451 افراد کو بچایا جا چکا ہے۔

وزیر اعظم مودی نے طلبہ کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا کہ نوجوانوں کو اپنی نظمیں پڑھتے ہوئے سننا ان کے لیے ایک جذباتی تجربہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ بہت عرصہ پہلے میرے ذریعے لکھی گئی نظمیں، آج مجھے یہ موقع ملا کہ میں انہیں ان نوجوانوں کی زبانی سنوں۔

متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے اور لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے 15 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار سرچ، ریسکیو اور امدادی کارروائیوں میں تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ قدرتی آفت 26 اگست کو اس وقت شروع ہوئی جب تبت-نیپال سرحد پر ایک تباہ کن اچانک سیلاب آیا۔

وزیراعظم مودی نے رواں سال کے آغاز میں ناروے کے اپنے دورے کے دوران بادشاہ سے ملاقات کو یاد کرتے ہوئے ان کی گرمجوشی اور عوامی خدمت کے لیے ان کی غیر معمولی وابستگی کی تعریف کی۔

ناگیندر نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ’’اپوزیشن جماعتیں اب بھی منوسمرتی نافذ کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہیں، وہ بھول گئی ہیں کہ ہم کس دور میں رہ رہے ہیں۔ یہ آئینی دور ہے، یہ بابا صاحب کا دور ہے۔‘‘ بی ناگیندر پر 90 کروڑ روپے کی مبینہ چوری سے متعلق منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

اے پی سی آر نے مطالبہ کیا ہے کہ تحقیقات کے دوران ملزمان کے سرکاری عہدے یا محکمہ جاتی حیثیت کو کسی بھی صورت میں تفتیش پر اثر انداز نہ ہونے دیا جائے اور تمام فریقوں کے ساتھ یکساں قانونی برتاؤ یقینی بنایا جائے۔

’دی کٹھمنڈو پوسٹ‘ کے مطابق راسوا اور اس سے ملحقہ اضلاع میں تباہ کن اچانک سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 72 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ نیپال کی حکومت نے باضابطہ طور پر قدرتی آفت سے متاثرہ اضلاع کے مختلف علاقوں کو تین ماہ کے لیے بحران زدہ علاقے قرار دے دیا ہے۔

بی جے پی کی نئی قومی ٹیم کی تشکیل کے بعد مرکزی وزارتی کونسل میں ممکنہ تبدیلیوں کی قیاس آرائیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نوجوانوں، خواتین اور اتحادی جماعتوں کو نمائندگی دینے پر غور کیے جانے کا امکان ہے۔ مودی حکومت کی تیسری مدت میں اتحادی جماعتوں کا کردار پہلے کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے۔ اس لیے وزارتی کونسل میں کسی بھی ردوبدل کے دوران این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے ساتھ سیاسی توازن قائم رکھنا بھی ضروری ہوگا۔

اتر پردیش کی صورتحال پر بھی ریاستی حکومت کی جانب سے قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ گنڈک ندی سے قربت کے باعث کشی نگر ضلع کے متاثر ہونے کا امکان ہے، جس کے پیش نظر وہاں این ڈی آر ایف کی ایک اضافی ٹیم تعینات کی گئی ہے۔