Bharat Express DD Free Dish

Abu Danish Rehman




Bharat Express News Network


سوربھ بھاردواج نے کہا کہ چاہے ٹوئٹر ہو، فیس بک ہو یا یوٹیوب، حکومت تنقیدی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ چھوٹی پارٹیوں کو پارلیمنٹ میں محدود وقت ملتا ہے، اس لیے نرم رویہ اپنانے کے بجائے بڑے قومی مسائل کو اٹھانا زیادہ ضروری ہے

اس سے قبل مئی 2024 میں ایک سیشن عدالت نے چیک باؤنس کیس میں راجپال یادو کو قصوروار قرار دیتے ہوئے چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔ بعد میں دہلی ہائی کورٹ نے اس سزا پر روک لگا دی تھی کیونکہ اداکار کے وکیل نے عدالت کو یقین دہانی کرائی تھی کہ دونوں فریق آپسی رضامندی سے معاملہ حل کر لیں گے۔

نئے ڈپٹی لیڈر اشوک کمار مِتل نے اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی میں تبدیلی ایک مسلسل عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے این ڈی گپتا ڈپٹی لیڈر تھے، اس کے بعد راگھو چڈھا نے یہ ذمہ داری سنبھالی اور اب انہیں یہ موقع دیا گیا ہے۔

آنند شرما نے کہا کہ دنیا شاید تاریخ کے سب سے بڑے توانائی بحرانوں میں سے ایک کی طرف بڑھ رہی ہے اور یہ وقت عالمی سفارتکاری کے امتحان کا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے خلیجی ممالک کے ساتھ طویل مدتی تعلقات ہیں،

وزیراعلیٰ ریکھا گپتا نے جین برادری کو بھگوان مہاویر جینتی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بھگوان مہاویر کی تعلیمات آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جین مذہب کے اصول جیسے اہنسا، سچائی اور تپسیا معاشرے میں بھائی چارے اور اخلاقی اقدار کو مضبوط کرتے ہیں۔

نارا لوکیش نے اپنی ایک اور پوسٹ میں کہا کہ این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ نے امراوتی بل کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کرانے کے دوران ریاست اور کسانوں کے حق میں مضبوط آواز اٹھائی۔ انہوں نے ان تمام لیڈروں کا شکریہ ادا کیا، جنہوں نے اس عمل میں اہم کردار ادا کیا۔

سیاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بی جے پی عام طور پر اجتماعی قیادت کے ساتھ انتخابات لڑتی ہے، لیکن امت شاہ جیسے بڑے رہنما کا کسی ایک امیدوار کی نامزدگی میں ذاتی طور پر شرکت کرنا غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔

ادھر وزیر اعظم مودی عالمی حالات پر بھی مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سیکورٹی سے متعلق کابینہ کمیٹی(سی سی ایس)  کی ایک خصوصی میٹنگ کی صدارت کی، جس میں مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے بھارت پر ممکنہ اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

دوسری جانب تہران میں جاری کشیدگی کے اثرات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ عبدالمظہر محمد خانی، جو تہران کے میئر کے ترجمان ہیں، انہوں نے بتایا کہ حالیہ حملوں کے باعث رہائشی عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔

وزیر اعظم  مودی کی سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے چنئی پولیس نے شہر بھر میں کثیر سطحی حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ تین ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ حساس مقامات پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔