Urdu Conclave 2026

Gyanvapi Masjid Case: گیانواپی کے وضوخانہ کی ہوگی صفائی، ہندو فریق کی مطالبہ کو منظوری دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا- ڈی ایم کی نگرانی میں کیا جائے کام

ہندو فریق نے اپنی درخواست میں کہا کہ تالاب میں مچھلیاں 12 سے 25 دسمبر 2023 کے درمیان مر گئیں۔ جس کی وجہ سے بدبو آنے لگی ہے۔ عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وہاں موجود ’ مبینہ شیولنگا‘ ہندوؤں کے لیے بہت مقدس ہے۔

گیان واپی مسجد کے وضوخانہ کے سروے سے متعلق عرضی سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔

Gyanvapi Masjid Case: وارانسی، اترپردیش (یوپی) کے گیانواپی مسجد میں وضوخانہ کی صفائی کی جائے گی۔ منگل (16 جنوری 2024) کو سپریم کورٹ نے اس کی منظوری دی۔ سپریم کورٹ نے ہندو فریق کے مطالبے پر یہ حکم دیا اور کہا کہ وہاں صفائی کا کام ضلع مجسٹریٹ (ڈی ایم) کی نگرانی میں ہونا چاہیے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی والی بنچ میں منگل کو اس کیس کی سماعت ہوئی۔ 3 جنوری کو انہوں نے درخواست پر جلد سماعت کا یقین دلایا تھا۔ یہ درخواست وضو خانہ میں مچھلیوں کے مرنے کے بعد دائر کی گئی تھی۔

ہندو فریق نے اپنی درخواست میں کہا کہ تالاب میں مچھلیاں 12 سے 25 دسمبر 2023 کے درمیان مر گئیں۔ جس کی وجہ سے بدبو آنے لگی ہے۔ عرضی میں مزید کہا گیا ہے کہ ’وہاں موجود ’ مبینہ شیولنگا‘ ہندوؤں کے لیے بہت مقدس ہے۔ اس لیے اسے کسی بھی قسم کی گردوغبار، گندگی اور مردہ جانوروں سے دور رکھنا چاہیے۔ اسے صاف کرنا چاہیے۔ لیکن اس وقت اسے مردہ مچھلیوں نے گھیر لیا ہے جس کی وجہ سے بھگوان شیو پر یقین رکھنے والے عقیدت مندوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔

یہ عرضی ایڈوکیٹ وشنو شنکر جین کے ذریعے سپریم کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔ عرضی میں کہا گیا کہ وہاں کے انتظام کی ذمہ داری انجمن انتظاریہ مسجد کی ہے جو گیانواپی کمپلیکس میں مسجد کا انتظام کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مچھلیوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ اس لیے ضلع مجسٹریٹ سے اس کی صفائی کے لیے ہدایات دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

کیا مسئلہ ہے

آپ کو بتاتے چلیں کہ 2022 میں سپریم کورٹ کے حکم پر ’ وضو خانہ‘ کے علاقے کو سیل کیا گیا تھا۔ یہاں ‘مبینہ شیولنگ’ کی شکل کا پتھر ملا ہے جس کے بعد اسے سیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ 16 مئی 2022 کو، کاشی وشوناتھ مندر کے ساتھ واقع مسجد کے عدالتی حکم کے مطابق سروے کے دوران، اس ڈھانچے کو ہندو کی جانب سے ‘شیوالنگ’ اور مسلمانوں کی جانب سے ‘فوارہ’ ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

-بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read