Bharat Express DD Free Dish

Uttarakhand Tunnel Accident: اکھلیش یادو نےاترکاشی سرنگ میں پھنسے تمام مزدوروں کو محفوظ طریقے سے نکالنا بی جے پی حکومت کی ذمہ داری

قابل  ذکر بات یہ ہے  کہ 12 نومبر کو دیوالی کی صبح ٹنل کا ایک حصہ گر گیا تھا اور جس کے بعد سے 41 مزدورسرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں یوپی سمیت کئی ریاستوں کے کارکن شامل ہیں۔

Uttarakhand Tunnel Accident: اتراکھنڈ کے اترکاشی میں سرنگ میں پھنسے کارکنوں کو لے کر ایس پی سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ اتوار19 نومبر کو ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے، انہوں نے الزام لگایا کہ کارکن سرنگ کے اندر پھنسے ہوئے ہیں اور وزیر اعلی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلی یوگی سے ہنگامی میٹنگ بلانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اکھلیش یادو نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ

اکھلیش یادو نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ اترکاشی کی سرنگ میں پھنسے تمام مزدوروں کو محفوظ طریقے سے نکالنا بی جے پی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ بحران کی اس گھڑی میں دیگر مزدوروں کے ساتھ اتر پردیش کے آٹھ مزدوروں کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہونے سے ان کے حوصلے بلند ہوں گے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ  توقع ہے کہ انتخابی مہم میں مصروف بی جے پی کے وزیر اعلیٰ ایک ہنگامی میٹنگ بلائیں گے اور جلد از جلد کوئی فیصلہ لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:آسٹریلیا نے ٹاس جیت کر پہلے گیند بازی کرنے کا کیا فیصلہ، 2 بجے شروع ہوگا کرکٹ کا سب سے بڑا مقابلہ

مزدور 12 نومبر سے پھنسے ہوئے ہیں

قابل  ذکر بات یہ ہے  کہ 12 نومبر کو دیوالی کی صبح ٹنل کا ایک حصہ گر گیا تھا اور جس کے بعد سے 41 مزدورسرنگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان میں یوپی سمیت کئی ریاستوں کے کارکن شامل ہیں۔ ان مزدوروں کو پائپ کے ذریعے خوراک، پانی اور آکسیجن فراہم کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کنگاروز سے 2003 کا بدلہ لے گی ٹیم انڈیا، پی ایم مودی سمیت یہ بڑی شخصیات ہوں گی شامل

ریسکیو آپریشن میں رکاوٹیں

  ریسکیو آپریشن کے دوران کئی مسائل کا سامنا ہے۔ ٹنل کے ملبے میں گھس کر اورا سٹیل کے کئی پائپوں کے ذریعے ایگزٹ بنا کر مزدوروں کو باہر نکالنے کے منصوبے پر عمل درآمد کے دوران بہت سی رکاوٹیں آئیں۔

بھارت ایکسپریس



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read