لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی جانب سے اپنی رہائش گاہ پر کانگریس لیڈرؤں کے ساتھ منعقدہ میٹنگ اور ’دیوالی ملن‘ پروگرام سے متعلق سیاسی بیان بازی تیز ہوگئی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس ملاقات پر تنقید کرتے ہوئے راہل گاندھی پر وزیر اعظم نریندر مودی کے مقبول پروگراموں کی نقل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
’چائے پر چرچا‘ بنیادی طور پر نریندر مودی کا پروگرام ہے
خبر رساں ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے تلنگانہ بی جے پی کے صدر رام چندر راؤ نے کہا کہ ملک کے عوام اب راہل گاندھی کے بیانات اور دعوؤں پر یقین نہیں کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود وہ بار بار میٹنگیں کرکے گمراہ کن بیانیہ پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اب راہل گاندھی اپنے لیڈرؤں کو ’چائے پر چرچا‘ کے لیے بلا رہے ہیں، جو وزیر اعظم نریندر مودی کے پروگرام کی نقل ہے۔ ’چائے پر چرچا‘ بنیادی طور پر نریندر مودی کا ہی پروگرام ہے اور اب راہل گاندھی اسی پروگرام کو دہرا رہے ہیں۔
کانگریس کے اپنے لیڈر بھی دعوؤں پر یقین نہیں کرتے: بی جے پی
بی جے پی لیڈر نے مزید دعویٰ کیا کہ کانگریس کے اندر ہی لوگ پارٹی قیادت کی جانب سے اٹھائے جانے والے ’ووٹ چوری‘ جیسے الزامات اور مسائل پر یقین نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ، بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور نتن نوین سمیت پارٹی کے کئی سینئر لیڈر ملک بھر کا دورہ کرکے عوام کو حقیقت سے آگاہ کر رہے ہیں۔ رام چندر راؤ کے مطابق یہی وجہ ہے کہ مخالفت کے باوجود ہر انتخاب میں عوام بی جے پی کی حمایت کر رہے ہیں۔
کانگریس لیڈرؤں نے ملاقات کو غیر رسمی قرار دیا
واضح رہے کہ جمعہ کے روز راہل گاندھی کی رہائش گاہ پر منعقدہ اس میٹنگ میں کانگریس کی حکومت والی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ، کئی ارکان پارلیمنٹ اور ریاستی اکائیوں کے اہم لیڈر شریک ہوئے تھے۔ میٹنگ کے بعد کانگریس لیڈرؤں نے وضاحت کی تھی کہ یہ صرف ایک غیر رسمی دیوالی ملن تقریب تھی اور اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیں تھا۔ تاہم، کانگریس کی اس وضاحت کے باوجود سیاسی حلقوں میں راہل گاندھی کی اس ملاقات سے متعلق بحث جاری ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

