Bharat Express DD Free Dish

UN Secretary-General António Guterres: کوریا کی سرحد پر بڑھتی کشیدگی ، اقوام متحدہ کے سربراہ کی اپیل، دونوں ممالک براہِ راست رابطہ بحال کریں

21 ستمبر کو دونوں ممالک کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ اس واقعے میں جنوبی کوریا کے 3 فوجی زخمی ہوئے تھے، جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک تھی۔جنوبی کوریا کی فوج اور اقوام متحدہ کی کمان کی مشترکہ تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ دھماکا شمالی کوریا کی جانب سے فوجی حد بندی لائن کے جنوب میں جان بوجھ کر بچھائی گئی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والی بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہوا تھا۔

نئی دہلی : شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان بڑھتی فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اہم تجویز پیش کی ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک سے باہمی رابطے کے ذرائع بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔ خاص طور پر دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان براہِ راست رابطہ دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا ہے، تاکہ سرحد پر کسی غیر ارادی فوجی واقعے یا غلط فہمی سے بچا جا سکے۔یونہاپ نیوز ایجنسی میں شائع رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے جمعرات کو معمول کی پریس بریفنگ میں بتایا کہ سکریٹری جنرل کو جزیرہ نما کوریا کی صورتحال اور غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں کشیدگی بڑھنے کے خدشے پر تشویش ہے۔دوجارک نے کہا، ’’گوتریس متعلقہ فریقوں کی حوصلہ افزائی کر رہے ہیں کہ وہ فوجی سطح سمیت تمام رابطے کے ذرائع دوبارہ شروع کریں۔ اس کا مقصد کسی غیر ارادی واقعے یا غلط اندازے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے تصادم کو روکنا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرنے اور مستقل امن قائم کرنے کا واحد راستہ سفارتی مذاکرات اور نئے سرے سے بات چیت کا آغاز ہے۔

بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد بڑھا تناؤ

21 ستمبر کو دونوں ممالک کے درمیان واقع غیر فوجی علاقے (ڈی ایم زیڈ) میں بارودی سرنگ کے دھماکے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ اس واقعے میں جنوبی کوریا کے 3 فوجی زخمی ہوئے تھے، جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک تھی۔جنوبی کوریا کی فوج اور اقوام متحدہ کی کمان کی مشترکہ تحقیقات میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ دھماکا شمالی کوریا کی جانب سے فوجی حد بندی لائن کے جنوب میں جان بوجھ کر بچھائی گئی اہلکاروں کو نشانہ بنانے والی بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ تاہم، شمالی کوریا نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے جنوبی کوریا کی تحقیقات کے نتائج کو من گھڑت قرار دیا۔جنوبی کوریا نے یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اٹھایا ہے۔ 22 اکتوبر کو بھیجے گئے خط میں اس نے شمالی کوریا سے واقعے پر معافی مانگنے، بارودی سرنگیں ہٹانے اور ایسے واقعات کی دوبارہ روک تھام کے لیے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

جنوبی کوریا نے فوجی مذاکرات کی تجویز پیش کی

اس سے پہلے 23 اکتوبر کو جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے سامنے فوجی مذاکرات کی تجویز رکھی تھی۔ سیول چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے حکام فوجی حد بندی لائن کی حقیقی صورتحال واضح کرنے، فوجی رابطے کے ذرائع بحال کرنے اور سرحد پر اچانک جھڑپوں کو روکنے کے اقدامات پر بات چیت کریں۔جنوبی کوریا نے ضرورت پڑنے پر امریکہ کی قیادت والی اقوام متحدہ کی کمان کو شامل کرتے ہوئے سہ فریقی مذاکرات کا متبادل بھی پیش کیا تھا۔جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کے درمیان رابطے کے ذرائع کا بند ہونا ایک بڑی تشویش کا سبب بنا ہوا ہے۔ شمالی کوریا اس سے پہلے جنوبی کوریا کے ساتھ اپنے کئی رابطے منقطع کر چکا ہے۔ ایسے میں دونوں ملکوں کے فوجی حکام کے درمیان براہِ راست رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے سرحد پر کسی واقعے کے دوران غلط فہمی اور تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔جنوبی کوریا کے وزیر خارجہ چو ہیون نے بھی اٹلانٹا میں منعقدہ جی-20 وزرائے خارجہ کے اجلاس کے دوران کہا تھا کہ موجودہ حالات میں دونوں کوریائی ممالک کے درمیان بات چیت پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوگئی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read