اتر پردیش کے وارانسی میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ’فٹ انڈیا‘ عزم کے تحت بائیک شیئرنگ نظام شروع کیا گیا ہے۔ فٹنس اور ماحول دوست آمدورفت کو فروغ دینے کے مقصد سے مخصوص مقامات پر کیو آر کوڈ کے ذریعے ادائیگی کرکے ای بائیک اور سائیکلوں کی سہولت حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں سگرا، سارناتھ، کچہری اور کینٹونمنٹ کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ اسے شہر کے دیگر علاقوں تک بھی توسیع دینے کا منصوبہ ہے۔
اہم مقامات پر بنائے جارہے ہیں بائیک اسٹینڈ
میونسپل کمشنر ہمانشو ناگپال نے بتایا کہ یہ عوامی بائیک شیئرنگ نظام وزیر اعظم مودی کے ’فٹ انڈیا‘ عزم کے تحت وارانسی میں شروع کیا گیا ہے۔ اس کے لیے مختلف مقامات پر بائیک اسٹینڈ تیار کیے جارہے ہیں، جہاں ای بائیک کے ساتھ عام سائیکلیں بھی دستیاب ہوں گی۔ انہوں نے بتایا کہ ای بائیک استعمال کرنے کے لیے شہریوں اور سیاحوں کو صرف بائیک اسٹینڈ پر لگے کیو آر کوڈ کو اسکین کرنا ہوگا۔ اس کے بعد معمولی فیس ادا کرکے بائیک استعمال کی جاسکتی ہے۔ ہمانشو ناگپال کے مطابق، وارانسی کی تنگ گلیوں میں بڑی گاڑیوں کا داخلہ ممکن نہیں ہوتا، جبکہ چھوٹی بائیک اور سائیکل کے ذریعے ان گلیوں میں آسانی سے گھوما جاسکتا ہے۔ اس سہولت سے شہر آنے والے سیاحوں کو خاصا فائدہ ہوگا۔ ان گاڑیوں کے استعمال کی فیس بھی بہت کم رکھی گئی ہے۔ شہر کے اہم عوامی مقامات پر ایسے بائیک اسٹینڈ بنائے جارہے ہیں، جہاں 10 سے 15 ای بائیک اور عام سائیکلیں دستیاب ہوں گی۔ تمام بائیک میں جی پی ایس ٹیگ لگائے گئے ہیں۔ کیو آر کوڈ اسکین کرکے مقررہ معمولی فیس ادا کرنے کے بعد کوئی بھی شخص ان کا استعمال کرسکتا ہے۔
نجی گاڑیوں کے بجائے سائیکل اور ای بائیک کے استعمال کی حوصلہ افزائی
اس سہولت کا مقصد لوگوں کو ذاتی موٹر گاڑیوں کے بجائے سائیکل اور ای بائیک استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ اس سے نہ صرف صحت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ کاشی کی تنگ گلیوں میں گھومنا بھی آسان ہوگا۔
حکام کے مطابق، منصوبے کی کامیابی کے بعد سی ایم گرڈ اور دیگر چوڑی سڑکوں والے علاقوں میں بھی یہ سہولت شروع کی جائے گی۔
کاشی آنے والے سیاحوں کی تعداد میں اضافہ
ہمانشو ناگپال نے بتایا کہ ہر روز لاکھوں سیاح گنگا آرتی میں شرکت کرنے، گھاٹوں کی سیر کرنے اور کشتی کی سواری سے لطف اندوز ہونے کے لیے کاشی آتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں شہر میں سیاحت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اب روزانہ تقریباً 4 سے 5 لاکھ افراد کاشی پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شہر میں کشتیوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا ہے۔ پانچ سے چھ سال پہلے وارانسی میں تقریباً 1,200 سے 1,300 کشتیاں تھیں، لیکن اب یہ تعداد بڑھ کر 3,000 سے تجاوز کرچکی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



