بہار کی سیاست میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کی جانب سے پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزامات کے بعد موکاما کے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو بہار اسمبلی نے باضابطہ نوٹس جاری کیا ہے۔ انہیں اپنا موقف پیش کرنے کے لیے صرف 7 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ بہار اسمبلی کی جانب سے جاری یہ نوٹس اننت سنگھ کے سیاسی کریئر کے لیے ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔ جے ڈی یو کی جانب سے پیش کی گئی سی ڈی، اخباری تراشوں اور دیگر شواہد کے ذریعے اسمبلی اسپیکر کے سامنے ان کے خلاف شکایت رکھی گئی ہے۔ اگر آئندہ 7 دنوں میں اننت سنگھ کا جواب اطمینان بخش نہیں پایا جاتا تو دل بدل مخالف قانون اور پارٹی نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے تحت ان کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے کا معاملہ آگے بڑھ سکتا ہے۔ جے ڈی یو سے 6 سال کے لیے اخراج کے بعد اگر ان کی اسمبلی رکنیت بھی ختم ہوتی ہے تو موکاما کے سیاسی مساوات بدل سکتے ہیں اور ریاست میں ضمنی انتخاب کی راہ بھی ہموار ہوسکتی ہے۔
جے ڈی یو نے اسمبلی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا
یہ معاملہ اس وقت گرم ہوا جب جے ڈی یو کے ریاستی صدر امیش کشواہا نے اسمبلی اسپیکر پریم کمار کو تحریری درخواست دے کر اننت سنگھ کی اسمبلی رکنیت منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔ جے ڈی یو نے اپنے الزامات کی حمایت میں اخبارات کی تراشیں، سی ڈی اور کئی دیگر شواہد بھی اسمبلی اسپیکر کے حوالے کیے تھے۔ اسی شکایت کی بنیاد پر اننت سنگھ کو نوٹس جاری کیا گیا ہے۔
ایم ایل سی انتخابات میں بغاوت پڑی بھاری
یہ پورا تنازع بہار قانون ساز کونسل کی پٹنہ گریجویٹ نشست کے انتخاب سے جڑا ہے۔ الزام ہے کہ اننت سنگھ نے جے ڈی یو کے سرکاری امیدوار نیرج کمار کے بجائے جن سوراج کے امیدوار انوج سنگھ کی کھل کر حمایت کی اور ان کے لیے انتخابی مہم بھی چلائی۔ پارٹی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں جے ڈی یو نے 24 اکتوبر 2026 کو انہیں 6 سال کے لیے پارٹی سے نکال دیا تھا۔
اننت سنگھ پر لگائے گئے تین اہم الزامات
جے ڈی یو کی شکایت کے مطابق، اننت سنگھ پر بنیادی طور پر تین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پہلا، پارٹی کے احکامات پر عمل نہ کرنا؛ دوسرا، پارٹی کے سینئر رہنماؤں کے خلاف غیر مہذب زبان استعمال کرنا؛ اور تیسرا، پارٹی کے سرکاری امیدوار کے خلاف جاکر مخالف امیدوار کی انتخابی مہم چلانا۔
اب آگے کیا ہوگا؟
پیر کے روز اسمبلی کا نوٹس ملنے کے بعد اننت سنگھ کو مقررہ 7 دن کے اندر اپنا جواب جمع کرانا ہوگا۔ ان کے جواب اور وضاحت کی بنیاد پر ہی اسمبلی اسپیکر کا دفتر ان کی رکنیت کے بارے میں حتمی فیصلہ کرے گا۔ اس ہائی پروفائل معاملے پر پوری ریاست کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اننت سنگھ اپنے جواب میں کیا موقف اختیار کرتے ہیں اور اسمبلی اسپیکر اس معاملے میں کیا فیصلہ لیتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



