نئی دہلی: بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) یکم نومبر کو دہلی میں ایک بڑے احتجاجی مارچ کے انعقاد کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ مارچ کانگریس کی قیادت والے انڈیا بلاک کی رام لیلا میدان میں ہونے والی ریلی کے ساتھ ہی نکالا جائے گا۔ بی جے پی کے اس احتجاجی مارچ میں تقریباً 5 ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے۔ مارچ صبح 11 بجے دہلی کے ہری نگر علاقے سے شروع ہوگا۔
کانگریس کی ریلی کے جواب میں بی جے پی کا احتجاج
بی جے پی اس مارچ کو کانگریس کی ریلی کے جواب میں منعقد کر رہی ہے۔ پارٹی کی جانب سے بڑی تعداد میں لوگوں کو جمع کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، خاص طور پر سکھ برادری کے افراد کی شرکت یقینی بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ پارٹی کے مطابق مارچ میں سکھ برادری سے تعلق رکھنے والے کئی سینئر بی جے پی رہنماؤں اور دیگر اہم لیڈروں کے بھی شامل ہونے کی توقع ہے۔ مارچ میں 1984 کے سکھ مخالف فسادات کے متاثرین اور ان کے اہل خانہ بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ ان کی شرکت سے فسادات کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ بی جے پی اس موقع پر تشدد میں کانگریس رہنماؤں کے مبینہ کردار کو اجاگر کرنے کی کوشش کرے گی۔
ایس آئی آر کے خلاف کانگریس کی ریلی
واضح رہے کہ کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے 5 اکتوبر کو یکم نومبر کے لیے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ایک بڑی ریلی کا اعلان کیا تھا۔ خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے خلاف جاری احتجاج کے دوران اپوزیشن چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ اس کا الزام ہے کہ ایس آئی آر کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔
دہلی کے تاجروں کی کاروباری سرگرمیاں متاثر ہونے کا خدشہ
کانگریس کی جانب سے یکم نومبر کو رام لیلا میدان میں مجوزہ ریلی کے پیش نظر دہلی کے کاروباری طبقے نے اپیل کی ہے کہ احتجاج اور عوامی اجتماع کے دوران ٹریفک اور آمد و رفت کے نظام کو متاثر نہ ہونے دیا جائے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ بڑی ریلیوں کے باعث سڑکوں پر جام اور راستوں کی بندش سے بازاروں میں گاہکوں کی آمد کم ہو جاتی ہے، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں اور انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ احتجاج کے جمہوری حق کے ساتھ شہریوں اور کاروباری طبقے کی سہولتوں کا بھی خیال رکھا جائے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ بی جے پی کی جانب سے اس احتجاج کے پیش نظر کاروباری طبقہ کس طرح کا ردعمل ظاہر کرے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



