Bharat Express DD Free Dish

ICS’s Role In Quit India Movement: ہاؤس آف لارڈز میں جگدیشور نگم آئی سی ایس کے کردار اور کوائٹ انڈیا موومنٹ پر لکھی کتاب پر گفتگو

آئی سی ایس کے افسر جگدیشور نگم اور کوائٹ انڈیا موومنٹ کے دوران ان کے مبینہ فیصلے پر مبنی ایک کتاب پر گفتگو کی گئی۔ کتاب میں جگدیشور نگم کی زندگی اور 19 اگست 1942 کو پیش آنے والے واقعات کے ذریعے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے ایک نظرانداز کیے گئے باب کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

لندن کے ہاؤس آف لارڈز میں انڈین سول سروس (آئی سی ایس) کے افسر جگدیشور نگم اور کوائٹ انڈیا موومنٹ کے دوران ان کے مبینہ فیصلے پر مبنی ایک کتاب پر گفتگو کی گئی۔ کتاب میں جگدیشور نگم کی زندگی اور 19 اگست 1942 کو پیش آنے والے واقعات کے ذریعے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے ایک نظرانداز کیے گئے باب کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔

کتاب کا عنوان اور تاریخی پس منظر

’دی ایڈمنسٹریٹر: ان کور دی ہسٹری بیریڈ آن 19 اگست 1942‘ کے عنوان سے شائع ہونے والی اس کتاب کو ویسٹ منسٹر کے پیلس میں واقع کمیٹی روم جی میں پیش کیا گیا۔ اس کی مصنفہ شیلا درباری، جدیشور نگم کی بیٹی ہیں، جنہوں نے اپنے والد کی زندگی اور 19 اگست 1942 کے واقعات کا جائزہ لیا ہے۔ کتاب کے مطابق، جگدیشور نگم بھارت چھوڑو تحریک کے دوران کانپور کے کلکٹر کے عہدے پر فائز تھے۔ کتاب میں بتایا گیا ہے کہ انہوں نے 19 اگست 1942 کو مظاہرین پر گولی چلانے کا حکم دینے سے مبینہ طور پر انکار کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ ان کی زندگی اور خدمات سے جڑے اہم واقعات میں شمار کیا گیا ہے۔

تاریخی ریکارڈ اور کانپور کی صنعتی ترقی

کتاب میں فائل نمبر D.1204/44-Est(s) کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ شیلا درباری کا ماننا ہے کہ یہ فائل اس بات پر روشنی ڈال سکتی ہے کہ کس طرح ان کے والد کی خدمات کو تاریخی ریکارڈ سے مبینہ طور پر ہٹا دیا گیا۔ اس کے علاوہ کتاب میں کانپور کی صنعتی ترقی میں جگدیشور نگم کے کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ مصنفہ نے ان کی کوششوں کو شہر کے ایک بڑے اقتصادی مرکز کے طور پر ابھرنے سے جوڑا ہے۔

معزز شخصیات کی شرکت

ہاؤس آف لارڈز میں منعقدہ اس تقریب میں متعدد معزز شخصیات نے شرکت کی، جن میں ارل آف منٹو، بیرونس اوشا پرشار، رکنِ پارلیمنٹ ویریندر شرما اور بیرونس ورما سمیت ایوان کے دیگر اراکین شامل تھے۔ تقریب کے دوران ان واقعات کی جذباتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے شیلا درباری نے کہا، ’’انہوں نے اپنی پوری زندگی اسی ایک لمحے کے لیے گزاری۔۔۔ یہ ان کے لیے ایک روحانی تجربہ تھا۔‘‘ تقریب میں شریک ایک شخص نے شیلا درباری کے اندازِ بیان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کہانی سنانے کے انداز نے سامعین کی دلچسپی برقرار رکھی اور لوگوں کو کتاب پڑھنے کے لیے راغب کیا۔ شیلا درباری کا مقصد اپنے والد کی زندگی اور ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد کے اس نظرانداز کیے گئے باب کو نمایاں کرنا ہے، تاکہ تاریخی واقعات اور ان سے وابستہ شخصیات کی خدمات پر دوبارہ توجہ دی جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read