Bharat Express DD Free Dish

Quit India Movement

امت شاہ نے کہا کہ ملک کو آزاد کرانے کی اس عظیم جدوجہد میں اپنا سب کچھ قربان کرنے والے تمام امر مجاہدینِ آزادی کو وہ سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست کرانتی کا یہ دن ہمیں قومی مفاد کو سب سے مقدم رکھتے ہوئے دیسی مصنوعات اپنانے، خود کفیل ہندوستان کی تعمیر اور ’وکست بھارت‘ کے عزم کو پورا کرنے کی تحریک دیتا ہے۔

تحریک کے دوران مہاتما گاندھی نے عدم تشدد کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر احتجاج کی قیادت کی اور ہندوستان سے برطانوی حکومت کے منظم انخلا کا مطالبہ کیا۔ اپنی تقاریر کے ذریعے گاندھی نے عوام کو متاثر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہر وہ ہندوستانی جو آزادی چاہتا ہے اور اس کے لیے جدوجہد کرتا ہے، اسے خود اپنی رہنمائی کرنی چاہیے۔

وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’ہم تاریخی ’بھارت چھوڑو تحریک‘ میں حصہ لینے والے تمام لوگوں کو یاد کرتے ہیں۔ ان کی بہادری ہمیشہ ہر ہندوستانی کے لیے تحریک کا باعث بنی رہے گی۔

پی ایم مودی نے مزید کہا کہ پاروتی گری کی زندگی صرف آزادی کی جدوجہد تک محدود نہیں رہی ،بلکہ سماجی خدمت ان کا اصل مشن تھی۔ صحت عامہ، خواتین کے بااختیار بنانے، سماجی فلاح اور ثقافت کے فروغ میں ان کا کردار قابلِ تقلید ہے۔

قومی پرچم لہرانے کے بعد دیویندر یادو نے کہا کہ ’’مجھے فخر ہے کہ میں کانگریس پارٹی کا سپاہی ہوں جس نے ملک کو آزادی دلانے میں اہم کردار ادا کیا۔

8 اگست 1942 کو مہاتما گاندھی کی قیادت میں شروع ہونے والی 'بھارت چھوڑو تحریک'، بھارت کی آزادی کی جدوجہد کا ایک اہم موڑ تھا۔ یہ انگریزوں سے فوراً بھارت چھوڑنے کی ایک ملک گیر اپیل تھی، جس کا نعرہ تھا: "کرو یا مرو"۔

قانون کی تعلیم کے دوران انہوں نے طلباء پر بڑھتی ہوئی فیسوں اور پولیس کے مظالم کی شدید مخالفت کی۔ یہی نہیں وہ ہڑتالی مل مزدوروں کی آواز بھی بن گئے۔ 1925 میں صرف 22 سال کی عمر میں انہوں نے یوتھ ینگ انڈیا سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم بنائی جس میں نوجوانوں کو برطانوی راج کے خلاف تربیت دی گئی۔

اوشا مہتا گاندھی جی سے متاثر ہوکر پلی بڑھی اور ان کے پیروکاروں میں شامل ہوگئی۔ وہ ہر قسم کی آسائشوں سے دور رہتی تھی۔ گاندھیائی طرز زندگی کو اپنایا اور صرف کھادی کے کپڑے پہنے۔