اتر پردیش میں سرکاری ملازمت حاصل کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کے لئے کردارکی تصدیق سے متعلق ضابطوں کومزید سخت کردیا گیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق، پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے اورایسے تنظیموں سے وابستگی رکھنے کے معاملات کوسرکاری ملازمت کے لئے اہلیت طے کرتے وقت اہمیت دی جائے گی۔ تاہم، محض کسی کی سیاسی نظریے کی بنیاد پراسے ملازمت کے لیے نااہل قرارنہیں دیا جا سکتا۔ اتر پردیش حکومت کی جانب سے جاری ہدایات میں سرکاری محکموں، کارپوریشنوں، کونسلوں اورمقامی بلدیاتی اداروں میں براہِ راست بھرتی کے دوران امیدواروں کے کردارکی تصدیق (کیریکٹر) کے عمل کوسخت کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ ہدایات محکمۂ تقرری کے پرنسپل سکریٹری ایم دیوراج کی جانب سے جاری کی گئی ہیں۔
پرتشدد سرگرمیوں میں ملوث ہونے پرملازمت کے لیے نااہلی
حکومت کے ذریعہ جاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کسی شخص کو محض اس کی سیاسی نظریاتی وابستگی کی بنیاد پرتقرری کے لیے ناموزوں نہیں سمجھا جائے گا۔ تاہم، ایسے افراد جوکسی ایسی تنظیم کے رکن ہوں، جس کا طے شدہ مقصد تشدد کے ذریعہ معاشرے کے موجودہ نظام کوتبدیل کرنا ہو، انہیں حکومت کے تحت ملازمت کے لیے نااہل سمجھا جائے گا۔ حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ 21 سال کی عمرمکمل کرنے کے بعد، جانچ کی تاریخ سے گزشتہ تین سال کے اندرایسی سرگرمیوں میں حصہ لینا اس بات کا ثبوت سمجھا جاسکتا ہے کہ متعلقہ شخص اب بھی ان سرگرمیوں میں سرگرم ہے۔ البتہ، اگراس دوران اس کے رویے میں تبدیلی کے ٹھوس اورمثبت شواہد موجود ہوں توان پربھی غورکیا جائے گا۔
صرف ایف آئی آردرج ہونے سے امیدوار نااہل نہیں ہوگا
نئے ضابطوں میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کسی امیدوارکے خلاف محض ایف آئی آردرج ہونے یا معاملے کی جانچ زیرالتوا رہنے سے اسے خود بخود سرکاری ملازمت کے لیے نااہل قرارنہیں دیا جائے گا۔ یعنی کردار (کیریکٹر) کی تصدیق کے دوران صرف مقدمہ درج ہونے کوہی نااہلی کی حتمی بنیاد نہیں بنایا جا سکے گا۔ امیدوارکے معاملے اورمتعلقہ حقائق کو ضابطوں کے مطابق دیکھا جائے گا۔
پولیس کو 30 دن کے اندردینی ہوگی رپورٹ
سرکاری ملازمت کے لیے امیدواروں کی کردارکی تصدیق کے عمل میں پولیس کو30 دن کے اندراپنی رپورٹ پیش کرنی ہوگی۔ اس کے علاوہ، ضرورت پڑنے پرامیدوارکے سابقہ محکمہ سے بھی اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ حکم نامے کے مطابق، پہلے سے سرکاری ملازمت میں کام کررہے ملازمین پراس نئے کردارکی تصدیق کے عمل کا اطلاق نہیں ہوگا۔ نئی ہدایات کا تعلق سرکاری محکموں، کارپوریشنوں، کونسلوں اورمقامی اداروں میں براہِ راست بھرتی کے ذریعہ ہونے والی تقرریوں سے ہے۔
کیا احتجاج میں شامل ہونے والے تمام نوجوانوں کونوکری نہیں ملے گی؟
حکم نامے کی فراہم کردہ عبارت میں ہرقسم کے احتجاج میں شرکت کرنے والے تمام افراد کوخود بخود سرکاری ملازمت سے محروم کرنے کی بات نہیں کہی گئی ہے۔ اس میں خاص طورپرایسی تنظیموں کی رکنیت اورتشدد کے ذریعے موجودہ سماجی نظام کوتبدیل کرنے کے مقصد سے وابستہ سرگرمیوں کا ذکر ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ کسی بھی احتجاج میں شامل ہونے والے ہر نوجوان کوسرکاری ملازمت نہیں ملے گی، حکم نامے کی عبارت کی مکمل ترجمانی نہیں ہوگی۔ امیدوارکی اہلیت کا تعین متعلقہ ضابطوں اوراس کے معاملے کے حقائق کی بنیاد پرکیا جائے گا۔
بھارت ایکسپریس اردو-
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




