نئی دہلی: ملک کے اہم مسلم مذہبی رہنماؤں میں شمار ہونے والے مولانا سید ارشد مدنی ایک بار پھر اپنے ایک بیان کے باعث موضوع بحث بن گئے ہیں۔ انہوں نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر ایک پیغام شیئر کیا، جس میں مسجدوں، اسلام اور موجودہ حالات کے بارے میں اپنی رائے پیش کی۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی اور سماجی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
مسجدوں کے بارے میں کیا کہا؟
سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں ارشد مدنی نے کہا کہ جن مسجدوں کو آج نقصان پہنچایا جا رہا ہے یا جنہیں ختم کیا جا رہا ہے، وہ مستقبل میں دوبارہ آباد ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب وہاں پھر سے مذہبی سرگرمیاں شروع ہوں گی اور اللہ اکبر کی صدائیں گونجیں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اقتدار میں بیٹھے لوگ ہمیشہ نہیں رہتے اور حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، لیکن ان کے مطابق اسلام کو دنیا کی کوئی طاقت ختم نہیں کر سکی ہے اور آئندہ بھی نہیں کر سکے گی۔
موجودہ حکومت پر الزامات
مولانا ارشد مدنی نے اپنے بیان میں کہا کہ پہلے بھی حکومتوں پر مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے الزامات لگتے رہے ہیں، لیکن موجودہ دور میں صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ ان کی مذہبی شناخت، مذہبی اداروں اور اسلام کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ فرقہ وارانہ طاقتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے۔ مدنی نے سوویت یونین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اسلام کو ختم کرنے کی سوچ رکھنے والے لوگ تاریخ کا حصہ بن گئے، لیکن اسلام آج بھی قائم ہے۔
مدارس اور خاندانوں کے کردار پر کیا کہا؟
اپنے پیغام میں انہوں نے مدارس کی اہمیت پر بھی بات کی۔ مدنی نے کہا کہ دینی مدارس مذہبی تعلیم اور شناخت کو محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ نئی نسل کے ایمان، اخلاق اور مذہبی اقدار کی حفاظت صرف مدارس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کو بھی اپنے بچوں کی مذہبی اور اخلاقی تربیت میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ موجودہ حالات سے مایوس نہ ہوں اور صبر، اتحاد، سمجھ داری اور ثابت قدمی کے ساتھ آگے بڑھیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


