نئی دہلی: پیٹرول میں ایتھنول ملانے کو لے کر جاری بحث کے درمیان مرکزی حکومت نے ملک میں 100 فیصد ایتھنول سے چلنے والی گاڑیوں، یعنی E100 فلیکس فیول گاڑیوں، کو منظوری دے دی ہے۔ حکومت نے اس کے لیے مرکزی موٹر وہیکل قواعد 1989 میں ترمیم کرتے ہوئے نیا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
اس فیصلے کے فوراً بعد مرکزی وزیر برائے سڑک ٹرانسپورٹ و شاہراہ نتن گڈکری اور پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے E20 پیٹرول کی مخالفت پر اہم بیانات دیے۔ مرکزی وزیر نتن گڈکری نے واضح طور پر کہا کہ E20 ایندھن کے خلاف سوشل میڈیا پر پیش کیے جانے والے دلائل پیسے دے کر چلائی جانے والی ایک مہم کا حصہ تھے۔
’E20 کے خلاف گمراہ کن باتیں پھیلائی گئیں‘
مرکزی وزیر نتن گڈکری نے منگل کو سخت الفاظ میں کہا کہ پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول ملانے کے فیصلے کی مخالفت پوری طرح گمراہ کن اور اسپانسرڈ تھی۔ اس دوران انہوں نے ملک میں قومی شاہراہوں کی صورت حال پر بھی بات کی۔ نتن گڈکری نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں تقریباً 700 سے 800 منصوبوں کا خود جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ شاہراہوں کے معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور اگلے دو سال میں ملک بھر کی قومی شاہراہوں پر سفر کرنے والے مسافروں کی تمام مشکلات ختم ہو جائیں گی۔
’ایتھنول ملانے کی حد 20 فیصد سے آگے نہیں بڑھے گی‘
جنوبی گوا کے گاؤں بیتول میں منعقدہ 29ویں ’انرجی ٹیکنالوجی اینڈ انوویشن میٹ‘ کے دوران مرکزی پیٹرولیم وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بھی صورت حال واضح کی۔ پوری نے کہا کہ ایتھنول کے حوالے سے مختلف قسم کی غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا فی الحال پیٹرول میں ایتھنول ملانے کی موجودہ 20 فیصد حد، یعنی E20، کو بڑھانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ واضح رہے کہ E20 پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول اور 80 فیصد پیٹرول ہوتا ہے، جبکہ E100 ایسا ایندھن ہے جو خالص ایتھنول سے چلتا ہے۔ حکومت کا بنیادی مقصد غیر ملکی خام تیل پر انحصار کم کرنا، غیر ملکی کرنسی کی بچت کرنا اور ملک کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں رکھنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




