Bharat Express DD Free Dish

Delhi Pollution: یکم نومبر سے دہلی میں پرانی گاڑیوں کی انٹری پر پابندی کی تیاری، 12 لاکھ گاڑیاں ہوں گی متاثر

دہلی میں سردیوں کے دوران آلودگی پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کی تیاری، BS-6 سے کم معیار والی گاڑیوں کی آمدورفت پر 31 جنوری 2027 تک پابندی لگانے کی تجویز سے این سی آر کے لاکھوں ڈرائیوروں کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

نئی دہلی: ہر سال سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی دہلی-این سی آر کی ہوا زہریلی ہونے لگتی ہے اور لوگوں کے لیے سانس لینا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ اس خطرناک آلودگی پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ اب ایک سخت قدم اٹھانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، یکم نومبر سے دہلی میں BS-6 معیار سے کم درجے کی پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کی آمد پر پابندی لگانے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ پابندی آئندہ 31 جنوری 2027 تک نافذ رہ سکتی ہے۔ اس فیصلے سے گروگرام، نوئیڈا، غازی آباد اور فرید آباد جیسے پڑوسی شہروں سے دہلی آنے والے تقریباً 12 لاکھ گاڑی مالکان، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹ سے وابستہ افراد کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

این سی آر کے ان شہروں پر براہ راست اثر پڑے گا

اگر یہ ضابطہ نافذ ہوتا ہے تو سب سے زیادہ اثر ان لوگوں پر پڑے گا جو روزانہ گروگرام، فرید آباد، نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور غازی آباد سے اپنی گاڑیاں لے کر دہلی آتے جاتے ہیں۔ اس پابندی کے دائرے میں صرف نجی کاریں ہی نہیں، بلکہ سامان ڈھونے والے کمرشل ٹرک اور پہلی بار دو پہیہ گاڑیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ ضابطہ صرف پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر لاگو ہوگا۔ اس پابندی کو سختی سے نافذ کرنے کے لیے دہلی کی سرحدوں پر سکیورٹی اور نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔ گاڑیوں کی شناخت کے لیے آٹومیٹک نمبر پلیٹ ریکگنیشن (ANPR) کیمروں کی مدد لی جائے گی، جبکہ سرحدوں پر تقریباً 300 اہلکاروں کی تعیناتی کی بھی تیاری ہے۔

ٹرانسپورٹرز اور ماہرین میں تشویش

مجوزہ پابندی کے خلاف ٹرانسپورٹ تنظیموں نے مخالفت شروع کر دی ہے۔ آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ کانگریس کے صدر ہریش سبھروال کا کہنا ہے کہ BS-4 گاڑیوں پر پابندی سے صرف ڈیڑھ سے ڈھائی لاکھ ٹرکوں کی آمدورفت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کاروبار اور ڈرائیوروں کی روزی روٹی پر بحران پیدا ہوگا، بلکہ دہلی میں روزمرہ استعمال کی اشیا کی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب، محکمہ ٹرانسپورٹ کے سابق ڈپٹی کمشنر انل چھکارا نے اس پالیسی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف گاڑی کے ماڈل یا تیاری کے سال کی بنیاد پر پابندی لگانا درست نہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ BS-4 گاڑیاں اگر اچھی حالت میں ہیں اور مجاز مراکز پر فٹنس ٹیسٹ پاس کر لیتی ہیں تو انہیں رعایت دی جانی چاہیے۔

کتنی گاڑیاں پابندی کے دائرے میں آ سکتی ہیں؟

اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو صورت حال کافی وسیع ہے۔ صرف گروگرام اور فرید آباد سے روزانہ تقریباً 2 لاکھ گاڑیاں دہلی میں داخل ہوتی ہیں، جن میں سے 70 فیصد تک گاڑیاں BS-6 سے کم معیار کی ہیں۔ وہیں نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور غازی آباد سے آنے والی ایسی گاڑیوں کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کر جاتی ہے۔ ان میں BS-4 گاڑیاں اور نجی پٹرول کاریں بڑی تعداد میں شامل ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read