Bharat Express DD Free Dish

UAE Oil Spill Umm Al Quwain Beaches Closed: متحدہ عرب امارات میں تیل کے اخراج سے بحران شدت اختیار کر گیا، کئی ساحل بند، سمندری حیات اور ماحولیات کو بڑا خطرہ

متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب سمندر میں پھیلنے والا تیل مسلسل تشویش بڑھا رہا ہے۔ یورپی یونین کے کوپرنیکس سیٹلائٹ نیٹ ورک کی تصاویر سے تیل کی تہہ کا دائرہ بڑھنے کے اشارے ملے ہیں۔ تیل کی تہہ شمالی امارت ام القوین کے ساحلی علاقے کے قریب پہنچ گئی ہے، جس کے بعد کئی ساحل بند کر دیے گئے ہیں۔ ماہرین نے سمندری حیات اور ماحولیات کو سنگین نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں کے قریب سمندر میں تیل کے پھیلاؤ نے ماحولیاتی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ کوپرنیکس سیٹلائٹ نیٹ ورک کی جانب سے 24 اکتوبر کو جاری کی گئی تصاویر کے مطابق، سمندر کی سطح پر تیل کی تہہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہو گئی ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر انتظامیہ نے کئی ساحلی علاقوں میں لوگوں کی آمدورفت محدود کر دی ہے۔

حکومت تیل کے اخراج کو روکنے میں مصروف

متحدہ عرب امارات کی وزارت برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات نے 23 اکتوبر کو بتایا تھا کہ ساحل سے دور موجود ایک تیل بردار جہاز سے تیل خارج ہو رہا ہے۔ اسے روکنے کے لیے کارروائی جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماہرین کی مدد سے سمندری ماحول پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ صورت حال کو دیکھتے ہوئے ام القوین شہر کے آس پاس کئی ساحلوں اور ساحلی علاقوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

شارجہ اور راس الخیمہ میں بھی احتیاطی اقدامات

تیل کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر پڑوسی امارت شارجہ کے الحمریہ ساحل پر بھی عام لوگوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ دوسری جانب، 24 اکتوبر کو راس الخیمہ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ علاقے کے تمام ساحل اگلے حکم تک بند رہیں گے۔ راس الخیمہ اپنے خوبصورت ساحلوں اور پُرتعیش تفریحی مقامات کی وجہ سے سیاحوں میں مقبول ہے۔ ساحلوں کی بندش سے سیاحت اور ساحلی سرگرمیاں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

ماہرین نے سنگین ماحولیاتی خطرے سے خبردار کیا

نیویارک یونیورسٹی ابوظہبی کے واٹر ریسرچ سینٹر کے ڈائریکٹر اور انجینئرنگ کے پروفیسر ندال ہلال نے خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو میں کہا کہ ام القوین کے قریب تیل کا اخراج ماحولیات کے لیے سنگین مسئلہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق، جب تک یہ واضح نہیں ہو جاتا کہ تیل کتنے بڑے علاقے میں پھیل چکا ہے اور کس سمت بڑھ رہا ہے، تب تک ساحلوں کو بند رکھنا احتیاطی تدبیر کے طور پر ضروری ہے۔

تیل کے اخراج کی وجہ اب بھی معمہ

متحدہ عرب امارات کے حکام نے اب تک نہ تو متعلقہ جہاز کی سرکاری شناخت ظاہر کی ہے اور نہ ہی تیل کے اخراج کی وجہ واضح کی ہے۔ تاہم، بعض ماہرین نے رائٹرز کو بتایا کہ تیل ’جیم نمبر 2‘ نامی جہاز سے خارج ہو رہا ہے۔ بحری جہاز رانی کے شعبے سے وابستہ ذرائع کے مطابق، گزشتہ ماہ اس جہاز پر کسی نامعلوم میزائل یا دوسرے ہتھیار سے حملہ ہوا تھا، جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی تھی۔ بعد میں آگ پر قابو پا لیا گیا تھا۔

سیٹلائٹ تصاویر میں اہم شواہد

کوپرنیکس سینٹینل-2 سیٹلائٹ کی تصاویر میں سمندر میں پھیلنے والے تیل کے ممکنہ منبع کے طور پر ایک جہاز دکھائی دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، جہاز کا حجم اور عرشے کی ساخت پہلے سے دستیاب تصاویر سے کافی حد تک ملتی ہے۔ اس کے علاوہ جہاز کے دائیں جانب اوپری حصے کے قریب جلنے کے نشانات بھی نظر آئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نشانات ان ویڈیوز سے مشابہ ہیں جو اس سے قبل ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری کی گئی تھیں۔

ایران جنگ کے دوران سمندری سلامتی پر تشویش

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ شروع ہونے والی جنگ کے بعد خلیجی خطے میں بحری تجارتی راستوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تجارتی جہازوں پر حملوں کے واقعات نے ماحولیاتی خطرات کو بھی بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں تجارتی جہازوں پر سب سے زیادہ حملے ریکارڈ کیے گئے۔

سمندری حیات کو شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ

ماہرین کے مطابق، تیل کا پھیلاؤ صرف ساحلی علاقوں تک محدود مسئلہ نہیں، بلکہ اس سے سمندری حیاتیاتی تنوع بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر (آئی یو سی این) کے مطابق، متحدہ عرب امارات کے سمندری علاقوں میں مچھلیوں، آبی پودوں اور مرجان کی متعدد اقسام پائی جاتی ہیں۔ خلیج کے پانیوں میں مچھلیوں کی 500 سے زیادہ اقسام موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ڈولفن اور سمندری کچھوؤں کے لیے بھی یہ اہم مسکن ہے۔ ایسے میں اگر تیل کا پھیلاؤ جاری رہتا ہے تو سمندری جانداروں کے ساتھ پورے سمندری ماحولیاتی نظام کو سنگین نقصان پہنچ سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read