نئی دہلی: اگر آپ سردیوں میں کہیں گھومنے پھرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں تو اتراکھنڈ ایک بہترین انتخاب ثابت ہوسکتا ہے۔ یہاں کئی ایسے مقامات ہیں جہاں برف پوش پہاڑوں، خوبصورت ہل اسٹیشنوں، خوش گوار موسم اور روحانی ماحول سے لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ خاص طور پر دسمبر کا مہینہ اتراکھنڈ کی سیر کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جب پہاڑی مناظر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔
مسوری: برف باری، مال روڈ اور دلکش پہاڑی مناظر
مسوری اتراکھنڈ کے مشہور ہل اسٹیشنوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہاں کیبل کار کی سواری، کیمپٹی آبشار، لینڈور بازار اور مال روڈ سیاحوں کے پسندیدہ مقامات ہیں۔ برف باری کا نظارہ کرنے کے لیے دسمبر کے وسط سے فروری کے وسط تک یہاں جانے کا منصوبہ بنایا جاسکتا ہے۔ مال روڈ پر چہل قدمی اور جے پی ریزورٹ کے آئس رنک میں آئس اسکیٹنگ سردیوں کی مقبول سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ دہرادون سے تقریباً 38 کلومیٹر دور واقع مسوری اپنی سرسبز پہاڑیوں اور متنوع نباتات و حیوانات کے لیے مشہور ہے۔ یہاں سے ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں اور دُون وادی کا خوبصورت نظارہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مسوری گنگوتری اور یمونوتری کے مندروں کی یاترا کے لیے بھی ایک اہم راستہ ہے۔ دہلی سے مسوری کا فاصلہ تقریباً 273 کلومیٹر ہے۔ یہاں پہنچنے کے لیے دہرادون کا جولی گرانٹ ہوائی اڈہ قریب ترین ہوائی اڈہ ہے، جبکہ دہرادون ریلوے اسٹیشن تقریباً 36 کلومیٹر دور واقع ہے۔
رشی کیش: گنگا کے کنارے سکون اور مہم جوئی
سردیوں میں رشی کیش قدرتی حسن، ذہنی سکون اور روحانیت کے متلاشی افراد کے لیے ایک پُرکشش مقام بن جاتا ہے۔ ہمالیہ کے دامن میں واقع یہ شہر یوگا، مراقبے اور دریائی مہم جوئی کے لیے مشہور ہے۔ یہاں سیاح قدرتی مناظر کے ساتھ مختلف سرگرمیوں سے بھی لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ رشی کیش میں بہتی گنگا، صبح کی دھند اور پہاڑوں کے دلکش نظارے اس مقام کی خوبصورتی میں اضافہ کرتے ہیں۔ سردیوں کی نرم دھوپ دریا کے کناروں کو سنہری رنگ میں نہلا دیتی ہے، جس سے یہ جگہ فوٹوگرافی اور فطرت سے محبت کرنے والوں کے لیے خاص طور پر پُرکشش ہوجاتی ہے۔ ماہرین کی نگرانی میں دریائے گنگا میں رافٹنگ کا تجربہ بھی کیا جاسکتا ہے، تاہم موسم اور مقامی حفاظتی ہدایات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ دہلی سے رشی کیش کا فاصلہ تقریباً 239 کلومیٹر ہے۔ یہاں ٹرین، بس، ٹیکسی یا ہوائی راستے سے پہنچا جاسکتا ہے۔ قریب ترین ہوائی اڈہ دہرادون میں واقع جولی گرانٹ ایئرپورٹ ہے، جو تقریباً 20 سے 25 کلومیٹر دور ہے۔
لینس ڈاؤن: پرسکون ماحول اور قدرتی حسن
پوری گڑھوال ضلع میں واقع لینس ڈاؤن سردیوں میں سیر کے لیے ایک خوبصورت اور پُرسکون ہل اسٹیشن ہے۔ یہاں کا قدرتی ماحول، سرسبز پہاڑیاں اور خاموش فضا ان لوگوں کو خاص طور پر پسند آتی ہے جو ہجوم سے دور کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ لینس ڈاؤن میں عموماً دسمبر سے فروری کے درمیان برف باری ہوسکتی ہے، اگرچہ اس کا انحصار موسم کی صورت حال پر ہوتا ہے۔ دہلی سے اس کا فاصلہ تقریباً 250 سے 270 کلومیٹر ہے۔ یہاں سڑک کے راستے کوٹ دوار سے ہوتے ہوئے پہنچا جاسکتا ہے۔ قریب ترین ریلوے اسٹیشن کوٹ دوار ہے، جبکہ دہرادون کا ہوائی اڈہ بھی سفر کے لیے ایک متبادل ہے۔
نینی تال: جھیل، پہاڑیاں اور دھند بھری صبحیں
نینی تال اتراکھنڈ کے مقبول ترین سردی کے سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ سردیوں میں یہاں کی خوبصورت جھیل، اطراف کی پہاڑیاں اور برف پوش مناظر دلکش ماحول پیدا کرتے ہیں۔ ٹھنڈا موسم، دھند بھری صبحیں اور جھیل کے پُرسکون نظارے اسے خاندانوں اور جوڑوں کے لیے ایک پسندیدہ مقام بناتے ہیں۔ دہلی سے نینی تال کا فاصلہ تقریباً 286 سے 300 کلومیٹر ہے۔ یہاں بس، کار یا ٹیکسی کے ذریعے پہنچا جاسکتا ہے۔ نینی تال میں اپنا ریلوے اسٹیشن نہیں ہے، لیکن دہلی سے کاٹھ گودام تک ٹرین کے ذریعے سفر کیا جاسکتا ہے۔ کاٹھ گودام ریلوے اسٹیشن نینی تال سے تقریباً 25 سے 30 کلومیٹر دور ہے۔ قریب ترین ہوائی اڈہ پنت نگر ہے، جو تقریباً 65 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
بھیمتال: ہجوم سے دور قدرتی مناظر
نینی تال کے قریب واقع بھیمتال ایک خوبصورت اور پُرسکون سیاحتی مقام ہے۔ یہاں نسبتاً کم بھیڑ ہوتی ہے، اس لیے فطرت کے قریب وقت گزارنے اور روزمرہ کی مصروفیات سے دور سکون حاصل کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے یہ ایک اچھا انتخاب ہے۔ یہاں کی پُرسکون جھیل، خوش گوار موسم اور دلکش قدرتی مناظر سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔ بھی متال سے نینی تال کا فاصلہ تقریباً 22 سے 25 کلومیٹر ہے اور سڑک کے ذریعے سفر میں تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ لگ سکتا ہے۔
کوسانی: ہمالیہ کی برف پوش چوٹیوں کا نظارہ
کوسانی ہمالیہ کی بلند اور برف پوش چوٹیوں کے خوبصورت نظاروں کے لیے مشہور ہے۔ سردیوں میں یہاں کے پہاڑی مناظر خاص طور پر دلکش ہوجاتے ہیں۔ سیاح یہاں انا شکتی آشرم، رودر دھاری آبشار، چائے کے باغات اور بیجناتھ مندر دیکھ سکتے ہیں۔ کوسانی سے نینی تال کا فاصلہ تقریباً 118 کلومیٹر ہے۔ سڑک کے ذریعے یہاں پہنچنے میں تقریباً چار سے ساڑھے چار گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ قدرتی حسن اور پُرسکون ماحول کی وجہ سے یہ مقام ان لوگوں کے لیے موزوں ہے جو پہاڑوں کے درمیان چھٹیاں گزارنا چاہتے ہیں۔
جم کاربیٹ نیشنل پارک: جنگلی حیات دیکھنے کا موقع
سردیوں کا موسم جم کاربیٹ نیشنل پارک کی سیر کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ خوش گوار موسم میں سفاری کے دوران جنگلی جانوروں کو دیکھنے کے امکانات بہتر ہوسکتے ہیں۔ گھنے جنگلات، دریا اور متنوع جنگلی حیات اسے خاندانوں اور مہم جوئی کے شوقین افراد کے لیے پُرکشش مقام بناتے ہیں۔ دہلی سے رام نگر میں واقع جم کاربیٹ نیشنل پارک کا فاصلہ تقریباً 255 سے 260 کلومیٹر ہے۔ یہاں بس، ٹرین، ٹیکسی یا ذاتی گاڑی کے ذریعے پہنچا جاسکتا ہے۔ قریب ترین ریلوے اسٹیشن رام نگر ہے، جو پارک سے تقریباً تین کلومیٹر دور ہے۔ پنت نگر ہوائی اڈہ بھی ایک متبادل ہے، جو رام نگر سے تقریباً 65 سے 84 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اولی: اسکیئنگ کے شوقین افراد کے لیے بہترین مقام
چمولی ضلع میں واقع اولی ہندوستان کے مشہور اسکیئنگ مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ برف کے کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے یہ ایک پُرکشش منزل ہے۔ سردیوں میں یہاں برف باری کے باعث پہاڑوں اور ڈھلوانوں پر برف کی سفید چادر بچھ جاتی ہے، جو اس مقام کو انتہائی دلکش بنادیتی ہے۔ اولی کو اس کی قدرتی خوبصورتی اور اسکیئنگ کی سہولتوں کے سبب کبھی کبھی ’منی سوئٹزرلینڈ‘ اور ہندوستان کا اسکیئنگ دارالحکومت بھی کہا جاتا ہے۔ دہلی سے اولی کا فاصلہ تقریباً 500 سے 520 کلومیٹر ہے۔ یہاں سڑک کے ذریعے پہنچا جاسکتا ہے، جبکہ ریل اور ہوائی سفر کے بعد سڑک کا راستہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔
چوپتا: برف پوش پہاڑ اور ٹریکنگ کا تجربہ
رودر پریاگ ضلع کے گڑھوال ہمالیائی علاقے میں واقع چوپتا فطرت سے محبت کرنے والوں اور مہم جوئی کے شوقین افراد کے درمیان مقبول ہورہا ہے۔ سردیوں میں یہاں کا بڑا حصہ برف سے ڈھک سکتا ہے، جس سے پہاڑی مناظر مزید دلکش ہوجاتے ہیں۔ سرد موسم میں درجۂ حرارت صفر سے نیچے بھی جاسکتا ہے۔ چوپتا کو قدرتی حسن کی وجہ سے اتراکھنڈ کا ’منی سوئٹزرلینڈ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ تنگ ناتھ مندر کی یاترا اور ٹریکنگ کے لیے ایک اہم نقطۂ آغاز ہے۔ تنگ ناتھ مندر تقریباً 13,500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے، جہاں تک پہنچنے کے لیے چوپتا سے چڑھائی شروع ہوتی ہے۔ سردیوں میں برف اور پھسلن کے باعث اس راستے پر سفر کرنے سے پہلے مقامی موسم اور راستے کی صورت حال معلوم کرنا ضروری ہے۔ دہلی سے چوپتا کا فاصلہ تقریباً 400 سے 450 کلومیٹر ہے۔ سڑک کے ذریعے سفر میں تقریباً 9 سے 12 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ یہاں بس یا ذاتی گاڑی کے ذریعے پہنچا جاسکتا ہے۔ قریب ترین بڑے ریلوے اسٹیشنوں میں رشی کیش شامل ہے، جو تقریباً 200 سے 209 کلومیٹر دور واقع ہے۔ اتراکھنڈ میں سردیوں کی سیر کا منصوبہ بناتے وقت موسم کی تازہ صورت حال، برف باری، سڑکوں کی دستیابی اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات ضرور معلوم کریں، تاکہ سفر محفوظ اور خوش گوار رہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



