نئی دہلی: کیرالا میں اتوار کو پیش آنے والے مرسڈیز بینز سڑک حادثے نے پونے کے پورشے حادثے کی یاد تازہ کردی ہے۔ دونوں معاملات میں ایک نابالغ، لگژری کار اور حادثے میں ہونے والی موت اہم موضوعات ہیں، دونوں واقعات کے حالات الگ الگ ہیں۔ کیرالا کے اس معاملے میں ملزم نابالغ ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کا بیٹا ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے کیرالا ہائی کورٹ نے جج والد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت دے دی ہے۔یہ حادثہ کوچی کے چیرانلور علاقے کے قریب پیش آیا۔ اتوار کی صبح تقریباً 2 بج کر 20 منٹ پر 17 سالہ نابالغ مبینہ طور پر تیز رفتار مرسڈیز بینز چلا رہا تھا، جس نے 55 سالہ جے بالاکرشنن کے اسکوٹر کو ٹکر مار دی۔ اس حادثے میں ان کی موت ہوگئی۔ ایف آئی آر کے مطابق، جے بالاکرشنن سڑک کنارے کھانے کی ایک چھوٹی دکان بند کرکے گھر واپس جا رہے تھے۔
نابالغ کو ضمانت، بعد میں مزید سنگین دفعہ شامل
پیر کو جووینائل جسٹس بورڈ (جے جے بی) نے 17 سالہ نابالغ کو ضمانت دے دی۔ بتایا گیا ہے کہ وہ وَلّارپاڈم سے کلمسری کی طرف جا رہا تھا، جب کنٹینر روڈ پر فورڈ شوروم کے قریب مبینہ طور پر اس کی گاڑی نے اسکوٹر کو پیچھے سے ٹکر مار دی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق، نابالغ کو اس سے پہلے ہی پولیس اسٹیشن سے ضمانت پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ پولیس نے ابتدائی طور پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 281 اور 106(1) کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ یہ دفعات لاپروائی سے گاڑی چلانے اور اس کے نتیجے میں موت سے متعلق ہیں۔متوفی کے اہل خانہ اور مقامی لوگوں کی مخالفت کے بعد پولیس نے دفعہ 105 بھی شامل کی، جس کا تعلق غیر ارادی قتل سے ہے، اور نابالغ کو حراست میں لے لیا۔ پیر کی صبح اسے جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے پیش کیا گیا۔اس معاملے میں ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ حادثے میں استعمال ہونے والی مرسڈیز بینز کار جج کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔
ہائی کورٹ کی اجازت کے بعد جج کے خلاف مقدمے کا راستہ صاف
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، کیرالا ہائی کورٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، پولیس کی جانب سے اجازت طلب کیے جانے کے بعد عدالت نے انتظامی سطح پر یہ حکم جاری کیا۔پولیس کا الزام ہے کہ جج کے نام پر رجسٹرڈ مرسڈیز بینز ان کا نابالغ بیٹا چلا رہا تھا۔ مبینہ طور پر تیز رفتار کار نے جے بالاکرشنن کے دو پہیہ گاڑی کو پیچھے سے ٹکر ماری، جس کے نتیجے میں ان کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔
متوفی کے اہل خانہ نے پولیس پر اٹھائے سوال
جے بالاکرشنن کی بیٹی نے پیر کی صبح صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے والد کو انصاف دلانے کے لیے جدوجہد جاری رکھیں گی اور جج یا ان کے نابالغ بیٹے کو ذمہ داری سے بچنے نہیں دیں گی۔انہوں نے پولیس پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ جج کا بیٹا ہونے کی وجہ سے ملزم کے ساتھ نرمی برتی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نابالغوں سے متعلق ایسے معاملات میں بھی سنگین جرائم کے باوجود ملزمین کو قانون سے بچ نکلنے کا موقع مل جاتا ہے۔رپورٹس کے مطابق، جے بالاکرشنن اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے تین بچے ہیں اور چھوٹی سی دکان سے ہونے والی آمدنی سے گھر کے اخراجات اور بچوں کی تعلیم کا انتظام ہوتا تھا۔ ان کی موت سے خاندان کے سامنے معاشی مشکلات بھی پیدا ہوگئی ہیں۔
پونے کے پورشے حادثے میں بھی نابالغ ملزم کو ملی تھی راحت
مئی 2024 میں مہاراشٹر کے پونے میں بھی اسی نوعیت کا ایک معاملہ سامنے آیا تھا۔ وہاں تیز رفتار پورشے کار کی ٹکر سے دو موٹر سائیکل سواروں کی موت ہوگئی تھی۔ الزام تھا کہ حادثے کے وقت نابالغ ملزم شراب کے نشے میں گاڑی چلا رہا تھا۔اس معاملے نے اس وقت ملک بھر میں توجہ حاصل کی تھی، جب نابالغ ملزم کو مضمون لکھنے سمیت چند شرائط کے ساتھ ضمانت دے دی گئی تھی۔ بعد میں اس کے والد سمیت کئی افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔کیرالا کے موجودہ معاملے میں بھی متوفی کے اہل خانہ نے انصاف اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اب سب کی نظریں پولیس کی تفتیش اور قانونی کارروائی پر ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

