نئی دہلی :کانگریس لیڈر راہل گاندھی کو مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے متعلق ہتکِ عزت کے مقدمے میں اتر پردیش کے سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت نے بری کر دیا ہے۔ سماعت کے دوران راہل گاندھی خود عدالت میں موجود تھے۔ یہ مقدمہ بی جے پی رہنما وجے مشرا نے دائر کیا تھا۔ معاملہ اگست 2018 کا ہے، جب امت شاہ بی جے پی کے قومی صدر تھے۔الزام تھا کہ راہل گاندھی نے بنگلورو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امیت شاہ کے خلاف متنازع تبصرہ کیا تھا۔ اس کے بعد ان کے خلاف سلطان پور کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا۔ راہل گاندھی کے وکیل کا کہنا ہے کہ عدالت نے انہیں اس معاملے میں بری کر دیا ہے۔
جج شبھم ورما نے سنایا فیصلہ
سلطان پور کی خصوصی ایم پی-ایم ایل اے عدالت میں راہل گاندھی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی پہنچ گئے تھے۔ مقدمہ دائر کرنے والے بی جے پی رہنما وجے مشرا بھی عدالت میں موجود تھے۔ سماعت کے دوران جج شبھم ورما نے راہل گاندھی کو بری کرنے کا فیصلہ سنایا۔راہل گاندھی کے وکیل کاشی پرساد شکلا نے فیصلے کی تصدیق کی۔ فیصلہ آنے کے بعد کانگریس کارکنوں میں خوشی دیکھی گئی اور عدالت کے باہر ڈھول بجا کر جشن منایا گیا۔ اس موقع پر راہل گاندھی کے ساتھ اتر پردیش کانگریس کی صدر آرادھنا مشرا مونا سمیت کئی سینئر رہنما بھی موجود تھے۔
کن 2 نکات کی بنیاد پر ملی راحت؟
اطلاعات کے مطابق، عدالت نے شواہد کی کمی کی بنیاد پر راہل گاندھی کو راحت دی۔ اس معاملے میں دو اہم نکات سامنے آئے۔پہلا نکتہ: عدالت نے تبصرے کو انتخابی ریلی میں کی گئی تقریر سے متعلق قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق، عدالت کا خیال تھا کہ اس بنیاد پر شکایت کا معاملہ مضبوط نہیں بنتا۔دوسرا نکتہ: عدالت نے یہ بھی کہا کہ وجے مشرا اس معاملے میں متاثرہ فریق نہیں ہیں۔ اس نکتے کو بھی راہل گاندھی کو راحت دینے کی ایک وجہ بتایا گیا ہے۔
فیصلے کو چیلنج کرے گا شکایت کنندہ فریق
دوسری جانب، وجے مشرا کے وکیل سنتوش نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہیں، لیکن اسے چیلنج کریں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں راہل گاندھی کے تبصرے کی جو سی ڈی پیش کی گئی تھی، اسے مضبوط ثبوت سمجھا گیا تھا اور ان کے مطابق اس بنیاد پر سزا ہونی چاہیے تھی۔انہوں نے کہا کہ وہ ان نکات کو بنیاد بنا کر فیصلے کے خلاف آگے قانونی کارروائی کریں گے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

