Bharat Express DD Free Dish

Excellent Presentation of Janata Raja: عظیم تاریخی ڈراما ’جانتاراجا‘ کے دوسرے دن سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری کی شرکت، کہا-’’چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی نوجوان نسل کے لیے تحریک کا باعث‘‘

چھترپتی شیواجی مہاراج اور ان کے سپہ سالار تاناجی مالوسرے کی بہادری اور قربانی کے مناظر نے سامعین کو مسحور کیا۔ سوامی چدانند سرسوتی نے کہا کہ مضبوط قوم کی تعمیر کے لیے تلوار کی طاقت کے ساتھ اعلیٰ نظریات بھی ضروری ہیں۔

غازی آباد: ہریدوار کے دیویہ پریم سیوا مشن کے زیر اہتمام غازی آباد کے سن سٹی میں جاری تاریخی عظیم ڈراما ’جانتاراجا‘ کے دوسرے دن بھی حب الوطنی، جوش و خروش اور تاریخی واقعات کی گونج سنائی دی۔ چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی پر مبنی اس عظیم الشان ڈرامے میں ان کی بہادری، دوراندیشی اور ان کے سپہ سالار تاناجی مالوسرے کی بے مثال قربانی کو اسٹیج پر پیش کیا گیا۔ اس موقع پر مہاراشٹر کے سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے، جبکہ رشی کیش کے پرمارتھ نکیتن کے سربراہ سوامی چدانند سرسوتی مہاراج نے بھی شرکت کی۔ ہزاروں طلبہ سمیت بڑی تعداد میں لوگوں نے اس تاریخی پیش کش کا مشاہدہ کیا۔ ’بھارت ایکسپریس‘ اس تاریخی اور ثقافتی تقریب کا آفیشل میڈیا پارٹنر ہے۔ 22 اکتوبر سے شروع ہونے والا یہ سات روزہ عظیم ڈراما 28 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

’ شیواجی مہاراج کی زندگی نوجوانوں میں توانائی پیدا کرتی ہے‘

سابق گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے سامعین سے خطاب کرتے ہوئے چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی اور ان کے نظریات کو نوجوان نسل کے لیے تحریک کا سرچشمہ قرار دیا۔ انہوں نے کونڈھانا قلعے، جسے بعد میں سنگھ گڑھ کہا گیا، کی تاریخی فتح اور تاناجی مالوسرے کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے میں بہادری، وفاداری اور قومی وقار کا گہرا پیغام پوشیدہ ہے۔ کوشیاری نے کہا کہ 82 سال کی عمر میں بھی چھترپتی شیواجی مہاراج کے نظریات اور ان کی زندگی نوجوانوں جیسا جوش اور توانائی فراہم کرتے ہیں۔ تاناجی مالوسرے نے کونڈھانا قلعے پر بھگوا پرچم لہرانے کے لیے اپنی جان قربان کردی تھی۔ قلعہ فتح ہونے کے بعد شیواجی مہاراج نے جذباتی انداز میں کہا تھا، ’’قلعہ تو ہاتھ آگیا، لیکن میرا شیر چلا گیا۔‘‘ اسی واقعے کی یاد میں کونڈھانا قلعے کا نام بعد میں سنگھ گڑھ رکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مغل اور برطانوی دور حکومت میں ہندوستان نے اپنے ثقافتی ورثے کا بہت کچھ کھویا۔ اب وقت آگیا ہے کہ نوجوان نسل شیواجی مہاراج کی طرح عقل، حکمت عملی اور شجاعت کے ساتھ ملک کے تاریخی اور ثقافتی وقار کی بحالی کے لیے کام کرے۔

’قوم کی تعمیر کے لیے تلوار اور نظریات دونوں ضروری ہیں‘

تقریب کے خصوصی مہمان سوامی چدانند سرسوتی مہاراج نے دیویہ پریم سیوا مشن اور اس کے صدر ڈاکٹر آشیِش گوتم کی خدمات کی ستائش کی۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر آشیِش گوتم نے صرف اپنی ذات کے لیے زندگی گزارنے کے بجائے خود کو سماجی خدمت اور قومی بیداری کے لیے وقف کردیا ہے۔ سوامی چدانند نے چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی کو ایک مضبوط اور باوقار قوم کی تعمیر کے لیے رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مقصد کے لیے صرف تلوار کی طاقت کافی نہیں، بلکہ اعلیٰ نظریات اور فکری قوت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ ان کے مطابق، آج نوجوان نسل کو ایسے زاویۂ نظر کی ضرورت ہے جو اسے ہندوستان کی حقیقی عظمت اور تہذیبی ورثے سے روشناس کراسکے، اور ’جانتاراجا‘ اسی شعور کو بیدار کرنے کی ایک کوشش ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونی ثقافتی اثرات کے درمیان اپنی تہذیبی جڑوں کی حفاظت کے لیے اس طرح کے بڑے ثقافتی پروگراموں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ ان کے بقول، شیواجی مہاراج کی زندگی سے نوجوانوں کو بہادری کے ساتھ ساتھ قومی ذمہ داری اور بلند نظریات کا سبق بھی ملتا ہے۔ عظیم ڈرامے کے دوران سب سے زیادہ جوش اس وقت دیکھنے کو ملا جب اسٹیج پر چھترپتی شیواجی مہاراج کے ہاتھوں بیجاپور کے حملہ آور افضل خان کے انجام کا منظر پیش کیا گیا۔ فنکاروں کی جاندار اداکاری اور تاریخی واقعات کی ڈرامائی پیش کش نے حاضرین کو متاثر کیا۔ ڈرامے میں شیواجی مہاراج کی پیدائش، ان کی والدہ جیجا بائی کی تربیت اور ریاضت، سمارتھ گرو رام داس کی تعلیمات، اہم تاریخی جنگوں اور عظیم الشان تاج پوشی کے مناظر بھی پیش کیے گئے۔ تقریباً 250 فنکاروں نے اپنی اداکاری کے ذریعے ان تاریخی واقعات کو اسٹیج پر زندہ کردیا۔ اس پیش کش کا مقصد شیواجی مہاراج کی زندگی، جدوجہد اور ان کے دور کے اہم واقعات کو نئی نسل کے سامنے مؤثر انداز میں پیش کرنا تھا۔

دہلی-این سی آر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں سے پہنچے ہزاروں طلبہ

غازی آباد کے سن سٹی میں منعقد ہونے والے اس پروگرام میں نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا، غازی آباد اور دہلی-این سی آر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں لوگ پہنچ رہے ہیں۔ خاص طور پر انجینئرنگ کالجوں اور یونیورسٹیوں کے ہزاروں طلبہ و طالبات نے پروگرام میں شرکت کی اور ہندوستانی تاریخ کے اس اہم باب کو قریب سے دیکھا۔ دوسرے دن کی تقریب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی تنظیمی عہدیدار ناگیندر سنگھ، معروف ٹی وی اینکر شری وردھن ترِویدی، راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ امرپال موریہ، جی این آئی او ٹی کے چیئرمین اور منتظم کمیٹی کے صدر ڈاکٹر راجیش گپتا، کنوینر ونئے چودھری، دیویہ پریم سیوا مشن کے قومی نائب صدر امیش نگم اور کنوینر ڈاکٹر سنجے چترویدی سمیت متعدد اہم شخصیات موجود تھیں۔ تقریب کی نظامت معاون کنوینر راگھویندر سنگھ نے کی۔ ’جانتاراجا‘ کا یہ سات روزہ انعقاد تاریخی واقعات کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنے کے ساتھ نوجوان نسل کو ہندوستان کی تاریخ، ثقافت اور قومی شخصیات کی زندگی سے روشناس کرانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ پروگرام 28 اکتوبر تک جاری رہے گا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read