دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ کو آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (آئسا) کی صدر نیہا بورا کی اس عرضی کو خارج کر دیا، جس میں انہوں نے امن برقرار رکھنے کے لیے 10,000 روپے کے ذاتی مچلکے اور ایک ضامن پیش کرنے سے متعلق نوٹس کو چیلنج کیا تھا۔ جسٹس سبرامنیم پرساد کی یک رکنی بنچ نے فی الحال عرضی خارج کر دی۔ تاہم عدالت نے ہدایت دی کہ کارروائی کے دوران جن دستاویزات اور مواد کا سہارا لیا گیا ہے، ان کی نقول نیہا بورا کو فراہم کی جائیں۔ ہائی کورٹ نے خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ (ایس ای ایم) کو بھی ہدایت دی کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کوئی حکم جاری کرتے وقت ضروری احتیاط برتی جائے۔
17 اکتوبر کے نوٹس کو دی گئی تھی چیلنج
نیہا بورا نے 17 اکتوبر کو خصوصی ایگزیکٹیو مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس کو چیلنج کیا تھا۔ یہ نوٹس بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعات 126 اور 130 اور دفعہ 135(3) کے تحت جاری کیا گیا تھا۔ اس میں ان سے امن برقرار رکھنے کے لیے مچلکہ بھرنے کو کہا گیا تھا۔ سماعت کے دوران نیہا بورا کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل گوپال شنکر نارائنن نے عدالت کو بتایا کہ 16 اکتوبر کی شام منڈی ہاؤس پہنچنے کے محض 10 سے 15 منٹ کے اندر نیہا بورا کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ وکیل نے دلیل دی کہ نیہا بورا نے نہ تو کوئی جرم کیا تھا اور نہ ہی کوئی ایسا کام کیا تھا، جس سے امن و امان خراب ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا۔ انہوں نے حراست میں لیے جانے کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ نیہا بورا کا کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں ترنگا لہرانے کے لیے منعقد کیے جانے والے الگ پروگرام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
اہل خانہ اور وکلا سے رابطے کی اجازت نہ دینے کا الزام
نیہا بورا کے وکیل نے الزام لگایا کہ حراست میں لیے جانے کے فوراً بعد انہیں اپنے اہل خانہ یا وکلا سے رابطہ کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ ان کے مطابق، مناسب ابتدائی جانچ اور ثبوتوں کے بغیر کارروائی شروع کی گئی، جو قانون کے مطابق نہیں تھی۔ وکیل نے یہ دلیل بھی دی کہ بی این ایس ایس کی دفعہ 136 کے تحت کسی شخص سے امن برقرار رکھنے کے لیے مچلکہ اسی وقت طلب کیا جا سکتا ہے، جب تحقیقات مکمل ہو جائیں۔
مرکزی حکومت کی جانب سے عرضی کی مخالفت
عرضی کی مخالفت کرتے ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل چیتن شرما نے کہا کہ نیہا بورا کی جانب سے مبینہ طور پر یکے بعد دیگرے 12 خلاف ورزیاں کی گئی تھیں، جن کی مجسٹریٹ نے جانچ کی ہے۔ انہوں نے ایک پریس کانفرنس میں نیہا بورا کی جانب سے مبینہ طور پر اقتدار کی تبدیلی سے متعلق دیے گئے بیان کا بھی حوالہ دیا۔ شرما نے کہا کہ اقتدار کی تبدیلی ووٹوں کے ذریعے ہوتی ہے، نہ کہ نئی دہلی کے حساس علاقے میں شرپسند عناصر کے ذریعے۔ عرضی میں کہا گیا تھا کہ نوٹس میں کوئی ٹھوس بنیاد نہیں بتائی گئی، جس سے یہ ثابت ہو کہ امن و امان خراب ہونے کا امکان تھا۔ عرضی گزار کے مطابق، بی این ایس ایس کی دفعہ 126 کے تحت احتیاطی کارروائی شروع کرنے کے لیے اس خدشے کی بنیاد موجود ہونا ضروری ہے۔
16 اکتوبر کو دہلی پولیس نے لیا تھا حراست میں
واضح رہے کہ 16 اکتوبر کو دہلی پولیس نے نیہا بورا سمیت کئی افراد کو حراست میں لیا تھا۔ اس روز کاکروچ جنتا پارٹی کی جانب سے کناٹ پلیس کے سینٹرل پارک میں مجوزہ ’ترنگا اسمبلی‘ پروگرام کے پیش نظر وسطی دہلی میں سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔شام 5 بجے منعقد ہونے والے اس احتجاجی پروگرام کی اجازت نئی دہلی میونسپل کونسل نے نہیں دی تھی۔ اسی پس منظر میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے کئی افراد کو حراست میں لیا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



