اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان اتحاد اور سیٹوں کی تقسیم کے معاملے پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کو انتخابی چیلنج دینے کی تیاریوں کے درمیان کانگریس نے سماجوادی پارٹی کو 172 اسمبلی سیٹوں کی ایک تفصیلی فہرست سونپی ہے۔ اس فہرست میں کانگریس نے اپنی تنظیمی طاقت، زمینی جائزے اور انتخابی امکانات کی بنیاد پر سیٹوں کو چار زمروں میں تقسیم کیا ہے۔ سیٹوں کی تقسیم پر باضابطہ بات چیت کے ابتدائی مرحلے میں ہی 172 سیٹوں کی فہرست سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا کانگریس اتنی بڑی تعداد میں سیٹوں پر دعویٰ کرکے اتحاد میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہتی ہے یا یہ محض بات چیت شروع کرنے کے لیے تیار کیا گیا ابتدائی خاکہ ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، اس فہرست کے پیچھے ’اے، بی، سی، ڈی‘ فارمولہ کارفرما ہے۔
کیا ہے کانگریس کا ’اے، بی، سی، ڈی‘ فارمولہ؟
کانگریس نے 172 سیٹوں کو چار الگ الگ زمروں میں تقسیم کرکے سماجوادی پارٹی کے سامنے اپنا موقف رکھا ہے۔ اس طریقۂ کار کا مقصد دونوں جماعتوں کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر منظم انداز میں بات چیت آگے بڑھانا ہے۔
’اے‘ زمرہ: مضبوط دعوے والی سیٹیں
اس زمرے میں وہ سیٹیں شامل ہیں جہاں کانگریس خود کو مضبوط اور روایتی طور پر اپنی پوزیشن مستحکم سمجھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق، ان سیٹوں پر پارٹی کا موقف سخت ہے اور یہاں سمجھوتے یا دعویٰ چھوڑنے کی گنجائش بہت کم رکھی گئی ہے۔
’بی‘ زمرہ: محدود تبدیلی کا امکان
اس زمرے میں ان سیٹوں کو شامل کیا گیا ہے جہاں کانگریس کی تنظیمی موجودگی اور مقامی سطح پر گرفت مضبوط ہے، لیکن امیدوار یا مقامی سیاسی حالات کے پیش نظر کچھ تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
’سی‘ زمرہ: بات چیت کے ذریعے فیصلہ
اس زمرے کی سیٹوں پر کانگریس سماجوادی پارٹی کے ساتھ تال میل اور باہمی رضامندی سے فیصلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہاں دونوں جماعتیں مقامی حالات اور انتخابی امکانات کو سامنے رکھ کر کوئی راستہ نکال سکتی ہیں۔
’ڈی‘ زمرہ: سمجھوتے کے لیے تیار
اس زمرے میں شامل سیٹوں پر کانگریس نے لچکدار موقف اختیار کیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر پارٹی ان سیٹوں پر اپنا دعویٰ چھوڑ کر سماجوادی پارٹی کے حق میں راستہ ہموار کرنے کے لیے تیار ہو سکتی ہے۔
172 سیٹوں کی فہرست دینے کا کیا مطلب ہے؟
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ سماجوادی پارٹی کو 172 سیٹوں کی فہرست سونپنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کانگریس ان تمام سیٹوں پر انتخاب لڑنے کے لیے بضد ہے۔ اسے سیٹوں کی تقسیم پر بات چیت شروع کرنے کے لیے ایک ابتدائی خاکہ قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ دونوں جماعتیں اپنی ترجیحات اور سیاسی طاقت کی بنیاد پر حتمی سمجھوتے تک پہنچ سکیں۔ کانگریس کی کوشش ہے کہ اتحاد میں اسے اس کی سیاسی حیثیت اور تنظیمی صلاحیت کے مطابق مناسب حصہ ملے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق، بنیادی مقصد بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کے لیے اپوزیشن کے ووٹوں کو منتشر ہونے سے روکنا ہے۔ اس مقصد کے لیے کانگریس ضروری سمجھوتے کرنے کے لیے بھی تیار ہے۔
مشترکہ کمیٹی کے ذریعے طے ہو سکتی ہے سیٹوں کی تقسیم
سیٹوں کی تقسیم کے حتمی فارمولے کو طے کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کے اعلیٰ رہنماؤں کی ایک مشترکہ رابطہ کمیٹی تشکیل دیے جانے کا امکان ہے۔ یہ کمیٹی مقامی ذات برادریوں کے سیاسی اثرات، کارکنوں کی طاقت، تنظیمی موجودگی اور امیدواروں کی جیت کے امکانات جیسے پہلوؤں کا جائزہ لے سکتی ہے۔ ان عوامل کی بنیاد پر دونوں جماعتیں سیٹوں کی تقسیم کے حتمی فارمولے پر اتفاق رائے قائم کرنے کی کوشش کریں گی۔
اب سماجوادی پارٹی کے موقف پر نظریں
اتر پردیش جیسے بڑے سیاسی صوبے میں سماجوادی پارٹی اور کانگریس کے درمیان سیٹوں کی تقسیم پر اتفاق کو بی جے پی مخالف اتحاد کے لیے اہم سمجھا جا رہا ہے۔ گزشتہ انتخابات کے تجربات سے سبق لیتے ہوئے دونوں جماعتیں ایسی سیٹوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں جہاں زمینی سطح پر کارکنوں کے درمیان بہتر تال میل قائم ہو سکے۔ کانگریس نے 172 سیٹوں کی فہرست پیش کرکے بات چیت کا اپنا ابتدائی موقف واضح کر دیا ہے۔ اب توجہ سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو اور ان کی جماعت کے ردعمل پر ہے۔ حتمی سمجھوتہ کتنی سیٹوں پر ہوگا اور دونوں جماعتیں کن شرائط پر اتفاق کریں گی، اس کا فیصلہ آئندہ مذاکرات میں متوقع ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


