اوہائیو اور وسکونسن کے دورے کے دوران دفاعی صنعت سے وابستہ ملازمین سے خطاب کرتے ہوئے ہیگسیتھ نے کہا کہ پینٹاگون اپنے خریداری نظام میں وسیع پیمانے پر تبدیلیاں کر رہا ہے۔ اس کا مقصد مستقبل کی ان جنگوں کے لیے تیاری کرنا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بغیر پائلٹ کے ہتھیار اور جدید مواصلاتی نظام اہم کردار ادا کریں گے۔ مجوزہ اخراجات سے امریکی فوجی سرمایہ کاری میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگا۔ اوہائیو کے شہر ڈیٹن میں سیئرا نیواڈا کارپوریشن کے دفتر میں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ امریکی مینوفیکچرنگ کو مضبوط بنانا اور روایتی خریداری کے نظام کے مقابلے میں فوجی ٹیکنالوجی کو کہیں زیادہ تیزی سے تیار کرنا چاہتی ہے۔ ہیگسیتھ نے کہا، ’’ہم 1.5 ٹریلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ ایسی سرمایہ کاری ہوگی جو آنے والی نسلوں کے کام آئے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ہم دنیا کی سب سے مضبوط اور طاقتور فوج بنے رہیں۔‘‘ انہوں نے امریکی کانگریس سے ایسے پیکیج کی منظوری دینے کی بھی اپیل کی، جس کے تحت دفاعی ترجیحات کے لیے کم از کم 350 ارب ڈالر فراہم کیے جا سکیں۔ وزیر دفاع نے کہا کہ دفاعی سازوسامان تیار کرنے والی کمپنیوں کو طویل مدتی یقین دہانی دینے اور نئی پیداواری تنصیبات میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کے لیے اضافی وسائل درکار ہیں۔
فوجی سازوسامان کی خریداری کا نظام بدلنے پر زور
ہیگسیتھ نے دلیل دی کہ پینٹاگون اب ایسے خریداری پروگراموں کو برداشت نہیں کر سکتا، جن کے تحت ہتھیار اور فوجی سازوسامان حاصل کرنے میں ایک دہائی یا اس سے زیادہ وقت لگ جاتا ہے۔ اس کے بجائے، محکمہ دفاع ایسی اہم صلاحیتیں حاصل کرنا چاہتا ہے جو چند ماہ یا چند سال کے اندر دستیاب ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کی جنگوں میں مختلف شعبوں میں کارروائی کرنے کی صلاحیت فیصلہ کن ہوگی۔ ان شعبوں میں خلا، زیر آب ماحول، سائبر اسپیس اور خودکار نظام شامل ہیں۔
’پروجیکٹ میریڈیئن‘ اور خودکار جنگی کمانڈ کا منصوبہ
ہیگسیتھ نے ’پروجیکٹ میریڈیئن‘ کی مثال بھی دی، جو حال ہی میں شروع کیا گیا ایک منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد فوجی پلیٹ فارموں کے درمیان رابطے کو بہتر بنانا اور نئی ٹیکنالوجی کو تیزی سے شامل کرنا ہے۔ ان کے مطابق، محکمہ دفاع ایک ’خودکار جنگی کمانڈ‘ بھی تیار کر رہا ہے۔ انہوں نے اسے چار ستارہ کمانڈ قرار دیا، جس کی ذمہ داری مشترکہ روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور بغیر پائلٹ کے فوجی نظاموں کی نگرانی ہوگی۔ مجوزہ کمانڈ مسلح افواج میں خودکار صلاحیتوں کی تعیناتی کے عمل میں تال میل پیدا کرنے میں مدد کرے گی۔
محفوظ مقامی پیداوار اور قابل اعتماد سپلائی چین پر زور
ہیگسیتھ نے کہا کہ محفوظ گھریلو پیداوار اور قابل اعتماد سپلائی چین کے بغیر صرف تکنیکی برتری کافی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق، مستقبل میں فوجی طاقت کا انحصار جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ ضروری سازوسامان کی مسلسل فراہمی پر بھی ہوگا۔ انہوں نے کہا، ’’جو بھی سمندر کے نیچے اور چاند کے آس پاس کے خلائی خطے (سیس لونر اسپیس) پر کنٹرول حاصل کرے گا، وہ اگلی جنگ میں اپنا غلبہ برقرار رکھے گا۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


