الہ آباد ہائی کورٹ نے غازی پور سے رکن پارلیمنٹ افضل انصاری کو بڑی راحت دیتے ہوئے ان کے تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلوں کو خارج کرنے والے احکامات رد کر دیے ہیں۔ عدالت نے معاملے کا ازسرنو جائزہ لینے کی ہدایت کے ساتھ اسے متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی، یعنی کمشنر کے پاس واپس بھیج دیا ہے۔ یہ حکم جسٹس سوربھ شیام نے افضل انصاری کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل اپیندر اپادھیائے اور ریاستی حکومت کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد دیا۔ عدالت نے تمام عرضیوں کا ایک ساتھ نمٹارا کیا۔
تین اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کا معاملہ
افضل انصاری کے نام پر تین اسلحہ لائسنس جاری کیے گئے تھے۔ انتظامیہ نے ان کے خلاف درج فوجداری مقدمات اور امن و قانون کی صورت حال پر ممکنہ اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے الگ الگ احکامات کے ذریعے ان لائسنسوں کو منسوخ کر دیا تھا۔ اس کے بعد افضل انصاری نے متعلقہ اپیلیٹ اتھارٹی کے سامنے ان فیصلوں کو چیلنج کیا، لیکن وہاں سے بھی انہیں راحت نہیں ملی اور ان کی اپیلیں خارج کر دی گئیں۔ ان ہی احکامات کو چیلنج کرتے ہوئے انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
افضل انصاری کے وکیل نے کیا دلیل دی؟
سماعت کے دوران افضل انصاری کے وکیل اپیندر اپادھیائے نے عدالت کو بتایا کہ اتر پردیش گینگسٹر ایکٹ سے متعلق معاملے میں ہائی کورٹ 29 جولائی 2024 کو ہی ان کی سزا منسوخ کر چکی ہے۔ وکیل نے دلیل دی کہ اسلحہ لائسنس منسوخ کرنے کی بنیادی وجہ یہی معاملہ تھا۔ اس کے باوجود سزا منسوخ کیے جانے کے عدالتی حکم کی نقل کمشنر کے سامنے پیش کرنے کے بعد بھی اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے اپیلیں خارج کر دی گئیں۔ وکیل نے یہ بھی کہا کہ ایک دوسرے معاملے میں افضل انصاری کو بری کیے جانے کے خلاف ریاستی حکومت کی اپیل ابھی زیر التوا ہے، لیکن صرف اس بنیاد پر اسلحہ لائسنس منسوخ نہیں کیے جا سکتے۔ ان کے مطابق، ایک اور کارروائی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی سے متعلق ہے، جس میں عدالت پہلے ہی کسی تعزیری کارروائی پر روک لگا چکی ہے۔
ریاستی حکومت نے مخالفت کی
ریاستی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل انوپ ترپاٹھی نے عرضی کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افضل انصاری کا طرز عمل اطمینان بخش نہیں رہا ہے اور ان کے خلاف دیگر فوجداری مقدمات بھی زیر سماعت ہیں۔
حکومت کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ 2005 کے ایک سنگین فوجداری معاملے میں افضل انصاری بری ہو چکے ہیں، لیکن اس فیصلے کے خلاف ریاستی حکومت کی اپیل اب بھی زیر التوا ہے۔
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کیا کہا؟
ہائی کورٹ نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ ایک غیر متنازع حقیقت ہے کہ گینگسٹر ایکٹ سے متعلق معاملے میں افضل انصاری کو پہلے ہی بری کیا جا چکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اپیلیٹ اتھارٹی نے محض اس بنیاد پر فیصلہ دیا کہ سزا کے خلاف اپیل زیر التوا تھی، لیکن یہ دلیل عدالتی جانچ کے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ عدالت کے مطابق، اپیلیٹ اتھارٹی کو اندراجیت سنگھ بنام ریاست اتر پردیش معاملے میں دیے گئے فیصلے کی روشنی میں بری کیے جانے کی نوعیت کا بھی جائزہ لینا چاہیے تھا۔
اسلحہ قواعد 2016 کا بھی ذکر
سماعت کے دوران عدالت نے اسلحہ قواعد 2016 کا بھی حوالہ دیا۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ موجودہ قواعد کے مطابق کسی بھی شخص کے پاس زیادہ سے زیادہ دو اسلحہ لائسنس ہو سکتے ہیں۔ عدالت نے ہدایت دی کہ آئندہ فیصلہ کرتے وقت اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جائے۔ ہائی کورٹ نے اپیلیٹ اتھارٹی کے تمام سابقہ احکامات منسوخ کرتے ہوئے پورا معاملہ دوبارہ غور کے لیے کمشنر کے پاس بھیج دیا ہے۔ اب کمشنر کو افضل انصاری کی بریت، ان کے خلاف زیر التوا دیگر مقدمات اور معاملے سے متعلق تمام حقائق کا تفصیلی جائزہ لے کر قانون کے مطابق نیا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس طرح افضل انصاری کو فی الحال عدالتی راحت ضرور ملی ہے، لیکن اسلحہ لائسنس کے معاملے پر حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے۔ اب اس معاملے کی دوبارہ سماعت اور کمشنر کے فیصلے کا انتظار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
