نئی دہلی: مرکزی وزیر مملکت رام داس اٹھاولے نے انڈیا اتحاد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن اتحاد کے پاس اب صرف مارچ اور ریلیاں نکالنے کا کام رہ گیا ہے، جس سے عام لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے اور افراتفری کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے احتجاج اور ابھجیت دیپکے کی تحریک کو بھی غلط قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ چاہے کتنا ہی احتجاج کرلیا جائے، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیں گے۔
’انڈیا اتحاد کے پاس صرف مارچ نکالنے کا کام رہ گیا ہے‘
رام داس اٹھاولے نے کہا کہ انڈیا اتحاد کے پاس اب صرف مارچ نکالنے کا کام باقی رہ گیا ہے، جبکہ ملک کی ترقی کے لیے کام کرنے کی ذمہ داری حکومت نبھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’وہ ریلیاں نکال رہے ہیں اور ہم ملک کی ترقی کے لیے کام کررہے ہیں۔ ریلی نکالنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن بار بار ریلی نکالنا مناسب نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ ریلی کی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی، درست نہیں، کیونکہ اس کے لیے منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ جب ہم بھی ریلی نکالتے تھے تو پہلے اس کی تیاری کرتے تھے۔‘‘ این ڈی اے کے اتحادیوں کی شرکت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کوئی اتحادی جماعت وہاں آنا چاہتی ہے تو آسکتی ہے، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ این ڈی اے کی کون سی جماعت اس میں شرکت کرے گی۔
سی جے پی کے احتجاج سے عام لوگوں کو پریشانی: اٹھاولے
سی جے پی کے احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مرکزی وزیر مملکت نے الزام لگایا کہ اس سے افراتفری پھیل رہی ہے اور عام لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق، پولیس کو بیریکیڈ لگانے اور سڑکیں بند کرنے جیسے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے شہریوں کی آمدورفت متاثر ہوتی ہے۔اٹھاولے نے کہا کہ راہل گاندھی اور انڈیا اتحاد کی یہ تحریک صرف لوگوں کو پریشان کرنے کا سبب بن رہی ہے۔
ابھجیت دیپکے کی دادی کے انتقال پر اظہارِ افسوس
سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے کے بارے میں بات کرتے ہوئے رام داس اٹھاولے نے ان کی دادی کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ابھجیت دیپکے ان کے سماج سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بدھ مت کے پیروکار اور امبیڈکر وادی ہیں۔ اٹھاولے نے کہا کہ ابھجیت دیپکے کی دادی ہنگولی کے ایک گاؤں میں رہتی تھیں اور ان کا اچانک انتقال ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے پر انہیں دکھ ہے۔
’13 کروڑ ووٹ خارج کرنے کا کام درست ہے‘
رام داس اٹھاولے نے ابھجیت دیپکے سے بار بار احتجاج نہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ جتنا بھی احتجاج کرلیں، گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 13 کروڑ ووٹ خارج کرنے کا فیصلہ درست ہے اور خارج کیے گئے ووٹوں میں ان کے اپنے ووٹ بھی شامل ہیں۔ ’ووٹ چوری‘ کے اپوزیشن کے الزامات پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ووٹ چوری ہوتی ہے تو کانگریس اتنے برسوں تک اقتدار میں کیسے رہی؟ ان کا کہنا تھا کہ جب کسی جماعت کو کامیابی ملتی ہے تو مخالفین یہ نہیں کہتے کہ ان کے ووٹ چوری ہوئے ہیں۔ اٹھاولے نے مزید کہا کہ جمہوریت میں عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی پسند کے امیدوار کو منتخب کریں۔ ان کے مطابق، پہلے کانگریس کو اکثریت ملتی تھی اور اب وزیر اعظم نریندر مودی کو اکثریت مل رہی ہے، اسی لیے اپوزیشن پریشان ہے۔
’2029 میں بھی این ڈی اے کی حکومت بنے گی‘
رام داس اٹھاولے نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی کسی نہ کسی معاملے پر احتجاج کا بہانہ تلاش کرتے رہتے ہیں، لیکن اس سے کانگریس کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چاہے اپوزیشن کتنا بھی احتجاج کرلے، 2029 میں بھی این ڈی اے کی حکومت بنے گی۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کا پورا یقین ہے۔
راہل گاندھی کے 200 سے زیادہ افسران سے رابطے کے دعوے پر ردعمل
راہل گاندھی کے اس دعوے پر کہ مرکزی حکومت کے 200 سے زیادہ افسران ان کے رابطے میں ہیں، جن میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی)، مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور وزارت خارجہ کے افسران بھی شامل ہیں، رام داس اٹھاولے نے ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ افسران راہل گاندھی سے رابطہ نہیں کررہے، بلکہ راہل گاندھی ان سے رابطہ کرسکتے ہیں۔ اٹھاولے کے مطابق، قائد حزب اختلاف، رکن پارلیمنٹ، وزیر یا وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے کسی کو بھی سرکاری کام کے سلسلے میں افسران سے بات کرنے کا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ 020 یا اس سے زیادہ افسران خود راہل گاندھی کے رابطے میں ہیں، بلکہ راہل گاندھی ان افسران سے رابطہ کرتے ہیں۔ اگر وہ کسی کام کے سلسلے میں افسران سے بات کرتے ہیں تو اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




