Bharat Express DD Free Dish

Retail Inflation: مہنگائی نے بڑھائی لوگوں کی پریشانی، خوردہ مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچی

ستمبر 2026 میں خوردہ مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.54 فیصد ہوگئی۔ سبزیوں سمیت کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں تیزی اس کی اہم وجہ بنی۔ مسلسل چوتھے مہینے مہنگائی ریزرو بینک کے 4 فیصد کے ہدف سے اوپر رہی۔

نئی دہلی: پیر کو جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں ستمبر 2026 کے دوران خوردہ مہنگائی کی شرح اگست کے 4.83 فیصد سے بڑھ کر 5.54 فیصد ہوگئی۔ اس اضافے کی اہم وجہ کھانے پینے کی اشیا، خاص طور پر سبزیوں کی قیمتوں میں تیزی سے ہونے والا اضافہ ہے۔ یہ مسلسل چوتھا مہینہ ہے جب مہنگائی کی شرح ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) کے درمیانی مدت کے 4 فیصد کے ہدف سے اوپر رہی ہے۔ یہ صورت حال قیمتوں کے مسلسل دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک جانب عالمی سطح پر خام تیل کی بلند قیمتیں اور روپے کی کمزوری مہنگائی کو بڑھا رہی ہیں، تو دوسری جانب زرعی پیداوار سے متعلق خدشات نے بھی حالات کو مشکل بنا دیا ہے۔ خوردہ مہنگائی پہلی بار جون میں آر بی آئی کے 4 فیصد کے ہدف سے اوپر گئی تھی۔ اس وقت مئی کی 3.93 فیصد شرح بڑھ کر 4.38 فیصد ہوگئی تھی۔

دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح 6 فیصد سے تجاوز کر گئی

ستمبر میں دیہی علاقوں میں سی پی آئی پر مبنی مہنگائی کی شرح 6.08 فیصد رہی، جبکہ اگست میں یہ 5.24 فیصد تھی۔ اسی طرح شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح گزشتہ ماہ کے 4.31 فیصد سے بڑھ کر 4.88 فیصد ہوگئی۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ مہنگائی کا دباؤ دیہی اور شہری دونوں علاقوں میں بڑھا ہے، جس سے عام گھرانوں کے اخراجات متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

مہنگائی میں مسلسل اضافہ، ماہرین کا اندازہ بھی درست ثابت ہوا

5 سے 7 اکتوبر کے درمیان 41 ماہرین اقتصادیات کے درمیان کیے گئے رائٹرز کے ایک سروے میں ستمبر کے لیے خوردہ مہنگائی کی شرح 5.40 فیصد رہنے کا اندازہ لگایا گیا تھا۔ یہ اگست میں درج کی گئی 4.82 فیصد شرح سے زیادہ تھی، جبکہ ماہرین کے اندازے 4.90 سے 5.90 فیصد کے درمیان تھے۔ ستمبر کے مہنگائی کے اعداد و شمار آر بی آئی کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کی جانب سے 7 اکتوبر کو پالیسی ریپو ریٹ میں 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کرکے اسے 5.50 فیصد کیے جانے کے چند دن بعد سامنے آئے ہیں۔ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث تقریباً چار سال میں پہلی بار شرح سود میں اضافہ کیا گیا تھا۔

آر بی آئی نے مالی سال 2027 کے لیے مہنگائی کا اندازہ بڑھایا

مرکزی بینک نے مالی سال 2027 کے لیے مہنگائی کا تخمینہ بھی 5.0 فیصد سے بڑھا کر 5.2 فیصد کردیا ہے۔ اس کے پیچھے خام تیل کی بلند قیمتیں، کھانے پینے کی اشیا کی بڑھتی لاگت اور روپے کی کمزوری کے باعث درآمدی مہنگائی میں اضافے جیسے عوامل بتائے گئے ہیں۔ ستمبر میں مہنگائی کی 5.54 فیصد شرح، سی پی آئی کی نظرثانی شدہ سیریز کے تحت 2026 میں اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔ اس سیریز میں بنیادی سال 2024 رکھا گیا ہے اور صارفین کے اخراجات کی باسکٹ کو بھی اپ ڈیٹ کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے اگست میں صارفین کی قیمتوں میں 4.83 فیصد اور جولائی میں 4.45 فیصد اضافہ درج کیا گیا تھا۔

آر بی آئی کی پیش گوئی میں بھی اضافہ

مہنگائی کے تازہ اعداد و شمار آر بی آئی کی جانب سے 7 اکتوبر کو مانیٹری پالیسی کے جائزے میں مہنگائی کے تخمینوں میں اضافے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ یہ قیمتوں کے دباؤ کے برقرار رہنے اور اس کے مزید پھیلنے سے متعلق بڑھتی تشویش کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مرکزی بینک نے مالی سال 2027 کے لیے سی پی آئی پر مبنی مہنگائی کا تخمینہ اگست میں بتائے گئے 5.0 فیصد سے بڑھا کر 5.2 فیصد کردیا ہے۔ آر بی آئی کے مطابق، مالی سال 2027 کی دوسری سہ ماہی میں مہنگائی کی شرح 4.9 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ اس کے بعد دسمبر کی سہ ماہی میں یہ بڑھ کر 6.0 فیصد اور مارچ کی سہ ماہی میں 5.7 فیصد ہوسکتی ہے۔ مالی سال 2028 کی پہلی سہ ماہی کے لیے مہنگائی کا تخمینہ 5.6 فیصد رکھا گیا ہے، جبکہ اس سے وابستہ خطرات کو متوازن قرار دیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read