Bharat Express DD Free Dish

Retail Inflation

ملک میں خوردہ مہنگائی کی شرح جولائی کے 4.45 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 4.82 فیصد ہوگئی۔ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی پر دباؤ بڑھایا، جبکہ غذائی مہنگائی بھی جولائی کے 5.52 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 5.95 فیصد ہوگئی۔

خوراک کی مہنگائی، جو صارف قیمت اشاریہ (CPI) کی ٹوکری کا تقریباً نصف حصہ بنتی ہے، جولائی میں -1.76فیصد رہی، جب کہ گزشتہ ماہ یہ -1.06فیصد تھی۔

ہندوستان میں خوردہ افراط زر گزشتہ تین مالی سالوں میں مسلسل کم ترین سطح پر رہا ہے، جو 2022-2023 میں 6.7 فیصد سے گر کر 2023-2024 میں 5.4 فیصد اور 2024-2025 میں 4.6 فیصد پر آ گیا۔

دیہی افراط زر فروری میں 3.79 فیصد سے کم ہو کر مارچ میں 3.25 فیصد ہو گیا، جب کہ شہری افراط زر فروری میں 3.32 فیصد سے مارچ میں معمولی طور پر بڑھ کر 3.43 فیصد ہو گیا۔

سبزی، انڈے، گوشت اور مچھلی، دال اور دودھ اور اس کی مصنوعات کی گرتی ہوئی قیمتوں نے مہنگائی میں کمی کی ہے۔

سبزیوں کے تیل جیسے سورج مکھی، پام، سویا اور ریپسیڈ تیل، چاول اور گندم جیسے اناج کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عالمی عدم استحکام اور بحیرہ اسود کے اناج معاہدے کے خاتمے کی وجہ سے گندم اور سورج مکھی کے تیل کی فراہمی میں مسائل پیدا ہو گئے ہیں۔ ک

  انہوں نے کہا کہ ٹماٹر کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں اور آنے والے مہینوں میں اس کے اثرات صاف طور پر نظر آئیں گے۔

دس اگست 2023 کو،آر بی آئی نے اپنی ایم پی سی میٹنگ میں موجودہ مالی سال کے لیے افراط زر کی پیشن گوئی کو 5.1 فیصد سے بڑھا کر 5.4 فیصد کر دیا۔ لیکن وزارت شماریات کے 14 اگست کے اعدادوشمار کے مطابق خوردہ مہنگائی کی شرح 7.44 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح خوراک کی مہنگائی کی شرح 11.51 فیصد رہی ہے۔

خوردہ افراط زر دو ماہ کے وقفے کے بعد 6 فیصد سے زیادہ کی سطح پر واپس آ گیا ہے۔ جہاں تک 4 فیصد کے درمیانی مدت کے ہدف کا تعلق ہے، سی پی آئی افراط زر اب لگاتار 40 مہینوں سے اس سے اوپر ہے۔